اردو
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ لڑکا بالغ ہونے تک نہ
(فرض نماز کی) امامت کرے (اور نہ نفل نماز کی) اور تمہارے لئے اذان وہ لوگ دیا کریں جو تم میں
سب سے زیادہ نیک ہوں۔ (اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے۔)
اور اثرم کی سنن میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس طرح مروی ہے کہ ایسا لڑکا
امامت نہ کرے جس پر حد و دیگر شرعی سزائیں قائم نہیں ہوتیں۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ارشاد ہے کہ ”لڑکا بالغ ہونے تک امامت نہ کرے“ چونکہ یہ ارشاد مطلق ہے اور اس میں کسی قسم کی قید نہیں ہے، اس لئے نابالغ لڑکا نہ تو فرض نماز میں امامت کرے اور نہ تو نفل نماز میں۔ چنانچہ عمدۃ الرعایہ میں لکھا ہے کہ نابالغ لڑکے کے امامت نہ کرنے کا جو مطلق حکم ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ لڑکے کی امامت بالغ مرد اور عورتوں کے لئے تمام نمازوں میں جائز نہیں ہے، فرض نمازوں میں لڑکے کی امامت کے جائز نہ ہونے پر ہمارے جمیع ائمہ احناف رحمہم اللہ متفق ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکا احکام شرعی کا مکلف نہیں ہوتا، اس لئے اس کی فرض نماز بھی نفل ہی سمجھی جائے گی۔ اور اگر بالغ مرد یا عورتیں اس کی اقتداء کریں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فرض نماز پڑھنے والے نفل نماز پڑھنے والے کی اقتداء کر رہے ہیں، حالانکہ فرض نماز پڑھنے والوں کی اقتداء بالاتفاق نفل نماز پڑھنے والے کے پیچھے جائز نہیں ہے۔ اب رہا تراویح اور دیگر نفل نمازوں میں نابالغ بچے کا امام بننا تو اس بارے میں واضح ہو کہ مشائخ شیخ نے تراویح اور نفل نمازوں میں لڑکے کی امامت کو جائز قرار دیا ہے لیکن ہدایہ میں ہے کہ فتویٰ اس پر ہے کہ لڑکے کی امامت تمام نمازوں میں خواہ فرض ہو یا تراویح ہو، یا نفل جائز نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکے کی نفل نماز اور بالغ شخص کی نفل نماز میں بڑا فرق ہے، وہ یہ کہ اگر بالغ شخص نفل نماز شروع کر کے توڑ دے تو اس پر اس نفل کی قضاء لازم ہے، اس کے برخلاف اگر نابالغ بچہ نفل نماز شروع کر کے توڑ دے تو بچے پر اس نفل کی قضا لازم نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکے کی نفل بالغ شخص کی نفل نماز کے مقابلہ میں بہت کم درجہ رکھتی ہے۔ اس لئے نابالغ بچہ جس کی نفل نماز کم درجہ کی ہوتی ہے وہ ایسے نفل نماز پڑھنے والوں کی امامت نہیں کر سکتا جن کی نفل نماز کامل درجہ کی ہوتی ہے۔ (یہ پورا مضمون عمدۃ الرعایہ سے ماخوذ ہے)۔