اردو
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وتر ہر مسلمان پر واجب ہے۔
(اس کی روایت بزار نے کی ہے۔)
اور عبداللہ بن احمد بن حنبل اپنے والد امام احمد سے روایت کرتے ہیں کہ ان
کے والد نے اپنی سند سے روایت کی ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب ملک شام کا سفر کئے تھے تو
وہاں دیکھا کہ لوگ وتر نہیں پڑھا کرتے ہیں تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ
عنہ سے دریافت کیا کہ یہاں کے لوگ وتر کیوں نہیں پڑھتے ہیں؟ حضرت معاویہ نے فرمایا کہ (اس
طرح آپ کے حیرت کے ساتھ دریافت کرنے سے مجھے تعجب ہو رہا ہے) کیا وتر واجب ہے؟ (کہ
جس کے نہ پڑھنے سے آپ اس طرح دریافت کر رہے ہیں)۔ حضرت معاذ نے فرمایا: ہاں بے
شک وتر واجب ہے (اس میں کیا شک ہے؟ وتر واجب ہونے کی دلیل یہ ہے کہ) میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ میرے رب نے (فرائض پر)
ایک اور نماز زیادہ فرمائی ہے اور وہ وتر ہے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد سے کہ اللہ تعالیٰ
Commentary and footnotes (1)
Note 1
نے فرائض پر وتر کو زیادہ کیا ہے ثابت ہوتا ہے کہ وتر واجب ہے اس لئے کہ جو چیز جس پر زیادہ ہوتی ہے وہ اسی کی جنس سے ہوتی ہے، یہاں وتر فرائض پر زیادہ ہو رہی ہے، اس لئے وتر واجب ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وتر کو بہت پابندی سے پڑھنا اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ وتر واجب ہے، فرائض کے جیسے اوقات بتائے گئے ہیں، ایسے ہی وتر کا ابتدائی اور آخری وقت بھی بتایا گیا ہے کہ) اس کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے شروع ہو کر صبح صادق کے طلوع ہونے تک رہتا ہے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ وتر ایک مستقل نماز ہے اور واجب ہے۔)