اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1908
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی نیند کی وجہ سے وتر نہ پڑھ سکے (اور بغیر وتر پڑھے کے صبح
صادق ہوگئی تو چونکہ اب وتر کا وقت ختم ہوچکا ہے اس لئے) ایسے شخص کو وتر کی قضاء پڑھنا چاہئے
Commentary and footnotes (3)
Note 4
(4) The evidence for this is that the obligation to make up a prayer is based on the obligation to perform it. Tahawi said: "The obligation to make up Witr is a consensus among the companions."
Note 2
(۲) قوله: فليصله إلخ : وجه الاحتجاج أن وجوب القضاء فرع على وجوب الأداء. وقال الطحاوي: إن وجوب قضاء الوتر إجماع من الصحابة.
Note 1
(اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں: ایک تو یہ کہ وتر کا وقت صبح صادق ہونے سے ختم ہوجاتا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث میں وتر کی قضاء کا حکم ہے۔ اور وتر کے واجب ہونے کی یہ کھلی دلیل ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو شخص وتر پڑھنا بھول جائے تو جس وقت یاد آجائے وتر کی قضاء کرلے۔ (اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے اور ابن الحصار نے بھی بیان کیا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)