اردو
ابو وہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ ابن
مبارک رضی اللہ عنہ سے صلاۃ التسبیح کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ (صلاۃ التسبیح کہ وہ
اوقات کے سوا جس وقت چاہے اور جس روز چاہے پڑھی جاسکتی ہے اور صلاۃ التسبیح کا جمعہ کے دن
زوال سے پہلے پڑھنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ صلاۃ التسبیح کی نیت سے چار رکعت اس
طرح پڑھے کہ) تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء یعنی ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ
اسْمُكَ وَتَعَالٰى جَدُّكَ وَلَا اِلٰهَ غَيْرُكَ“ پڑھنے کے بعد (15) مرتبہ ”سُبْحَانَ اللّٰهِ
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَكْبَرُ (جیسا کہ بعض روایت میں یہ اضافہ مذکور
ہے۔ مرقات ج۔ 12) وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ“ پڑھے اس کے بعد ”اَعُوذُ
بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ“ اور ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ پڑھکر سورہ فاتحہ اور ضم سورہ
کر کے (10) مرتبہ یہی مذکورہ تسبیح پڑھے، پھر رکوع کرے اور رکوع میں (رکوع کی تسبیح کے بعد 10
مرتبہ یہی مذکورہ تسبیح پڑھے، پھر رکوع سے سر اٹھا کر (سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اور رَبَّنَا لَكَ
الْحَمْدُ کہنے کے بعد) قومہ میں (10) مرتبہ یہی مذکورہ تسبیح پڑھے، پھر سجدہ میں جائے اور سجدہ کی
تسبیح پڑھنے کے بعد (10) مرتبہ یہی تسبیح پڑھے، پھر سجدہ سے سر اٹھا کر جلسہ میں ”رَبِّ اغْفِرْلِيْ“
پڑھنے کے بعد (10) مرتبہ یہی تسبیح پڑھے، پھر دوسرے سجدہ میں جائے اور سجدہ کی تسبیح پڑھنے کے
بعد یہی تسبیح (10) بار پڑھے، اس طرح ایک رکعت میں (75) بار یہ تسبیح ہوئی (دوسرے سجدے سے
سر اٹھانے کے بعد نہ تو بیٹھے اور نہ مذکورہ تسبیح پڑھے بلکہ دوسرے سجدہ سے اٹھتے ہی دوسری رکعت کا
قیام شروع کرے (اور باقی تین رکعتوں کی ہر رکعت میں اسی طرح مذکور تسبیح کو (75) بار پڑھتا جائے
یعنی ہر رکعت کے شروع میں سورہ فاتحہ اور ضم سورہ سے پہلے (15) بار اور ضم سورہ کے بعد (10) بار
(رکوع میں (10) بار، قومہ میں (10) بار، پہلے سجدہ میں (10) بار، جلسہ میں (10) بار، اور دوسرے
سجدہ میں (10) بار اس طرح ہر رکعت میں (75) بار مذکورہ تسبیح پڑھا کرے، اور قعدہ اولیٰ اور قعدہ
آخرہ میں تسبیح پڑھنے کی ضرورت نہیں، اگر کسی شخص کو صلاۃ التسبیح میں سہو ہو جائے تو وہ سہو کے سجدوں
میں اس مذکورہ تسبیح کو نہ پڑھے کیونکہ صلاۃ التسبیح میں (300) بار مذکورہ تسبیح پڑھنا چاہئے اور وہ
ہو چکے، اگر کسی رکن میں اس مذکورہ تسبیح کی مقررہ تعداد میں سہواً کمی ہو جائے تو بعد کے کسی رکن میں
اس کی تعداد تکمیل کرے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
اور ابوداؤد کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارے گناہ تمہارے روئے زمین کے باشندوں کے گناہوں سے بھی زیادہ
ہوں گے تب بھی اللہ تعالیٰ اس نماز کی بدولت تمہارے گناہ بخش دیں گے۔
اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارے گناہ کثرت میں ریت کے ٹیلہ کے برابر بھی ہوں تو اللہ تعالیٰ اس صلاۃ
التسبیح کی برکت سے تمہارے گناہ معاف فرما دیں گے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا
کہ یا رسول اللہ کس میں طاقت ہے کہ روزانہ یہ نماز پڑھ سکے؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم
روزانہ پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتے تو ہر جمعہ کو پڑھ لیا کرو اور اگر جمعہ کو بھی نہ ہو سکے تو مہینہ میں ایک
دفعہ ہی پڑھ لیا کرو (اگر مہینہ میں ایک بار بھی نہ پڑھ سکو تو) آپ نے فرمایا کہ سال میں ایک ہی بار پڑھ لو۔
Arabic quotation in the English source
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ
سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 481 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.