Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1763

(اس باب میں سفر کی حالت میں نماز پڑھنے کا بیان ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(اس باب میں سفر کی حالت میں نماز پڑھنے کا بیان ہے)

Zujajat al-Masabih 1763Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2036
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ (ابتداءً) سفر اور حضر میں نماز دو رکعت فرض ہوئی تھی، پس سفر کی نماز تو اسی حال پر (دو رکعت ہی) رہی (اس لئے کوئی سفر میں چار رکعت پڑھے تو گنہگار ہوگا) اور حضر کی نماز کو اور دو رکعت بڑھا کر چار رکعت کر دیا گیا (سوائے مغرب کے کہ وہ شروع ہی سے تین رکعت ہیں، اس لئے کہ وہ دن کی وتر ہے اور اسی لئے مغرب میں قصر نہیں ہے اور ایسا ہی صبح کے فرض ابتداء سے دو رکعت ہی ہیں)۔ (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 685a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Our Imam Abu Hanifah said: ‘Travel for obedience or sin is the same in terms of concessions, as the texts of concession are general. Since the obligation to complete prayers is tied to residence alone, not to obedience or disobedience, it follows that shortening prayers is tied to travel alone, not to obedience or disobedience.’ This is mentioned in Fath al-Qadir and Al-Tahawi.

(1) "Our Imam Abu Hanifah said: ‘Travel for obedience or sin is the same in terms of concessions, as the texts of concession are general. Since the obligation to complete prayers is tied to residence alone, not to obedience or disobedience, it follows that shortening prayers is tied to travel alone, not to obedience or disobedience.’ This is mentioned in Fath al-Qadir and Al-Tahawi."

Note 1

قوله

(۱) قوله : في الحضر والسفر : قال إمامنا أبو حنيفة : سفر الطاعة والمعصية سواء في الرخص؛ لإطلاق نصوص الرخصة، ولأنه فلما كان حكم الإتمام يجب له في الإقامة بالإقامة خاصة، لا بطاعة ولا بغيرها، كان كذلك يجيء في النظر أن يكون حكم التقصير يجب له في السفر بالسفر خاصة، لا بطاعة ولا غيرها قياسًا. كذا في فتح القدير» و «الطحاوي».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ ابتداء میں سفر اور حضر میں دو، دو رکعت فرض ہوئے تھے، سفر کی نماز اسی حال پر دو رکعت ہی رہی اور حضر کی نماز کو اور دو رکعت بڑھا کر چار رکعت کر دیا گیا۔ واضح ہو کہ مقیم پر حضر میں صرف اقامت کی وجہ سے چار رکعت فرض کئے گئے ہیں اور اسی طرح مسافر پر صرف سفر کی وجہ سے دو رکعت فرض کئے گئے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ مقیم پر حضر میں چار رکعت فرض ہونے کی علت صرف اقامت کی حالت ہے کوئی اور حالت نہیں نہ طاعت کی حالت اور نہ گناہ کی حالت یعنی مقیم پر حضر میں اس کے مقیم ہونے کی حیثیت سے چار رکعت فرض ہیں، اس کے مطیع ہونے کی حیثیت سے یا گناہ میں مبتلا ہونے کی حیثیت سے اس پر حضر میں چار رکعت فرض نہیں ہیں، اسی طرح مسافر پر سفر میں دو رکعت فرض ہونے کی علت صرف سفر کی حالت ہے کوئی اور حالت نہیں ہے، نہ طاعت کی حالت اور نہ گناہ کی حالت یعنی مسافر پر سفر میں اس کے مسافر ہونے کی حیثیت سے دو رکعت فرض ہیں، اس کے مطیع ہونے کی حیثیت سے یا گناہ میں مبتلا ہونے کی حیثیت سے اس پر سفر میں دو رکعت فرض نہیں ہیں، اقامت کی حالت میں مقیم پر چار رکعت فرض ہونے پر سب ائمہ کا اتفاق ہے، البتہ مسافر پر سفر میں جو دو رکعت فرض ہیں اس بارے میں بعض ائمہ کا اختلاف ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اگر مسافر کسی طاعت مثلاً حج کے لئے سفر کر رہا ہو تو اس کے لئے قصر کی اجازت ہونی چاہئے اور اگر مسافر کسی گناہ جیسے ڈاکہ زنی وغیرہ کے لئے سفر کر رہا ہو تو اس کو پوری نماز پڑھنا چاہئے اور اس کے لئے قصر کا حکم مناسب نہیں، ہمارے امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مقیم پر صرف اقامت کی وجہ سے جب چار رکعت فرض ہوئے ہیں اور اس چار رکعت کے فرض ہونے میں اقامت کی حالت کے سوا کسی اور حالت طاعت یا گناہ کی حالت کا لحاظ نہیں ہے تو پھر مسافر کے لئے کس بنا پر قصر کرنے کے لئے سفر کی حالت کے سوا طاعت یا گناہ کی حالت کا ہونا ضروری سمجھا جا رہا ہے مسافر پر بھی صرف سفر کی حالت کی وجہ سے ہی دو رکعت کا حکم دیا جانا ضروری ہے اگر قصر کے لئے مسافر پر حالت سفر کے سوا کسی اور حالت یعنی طاعت یا گناہ کی حالت کا لحاظ ضروری سمجھا جائے تو احادیث کے مطلق حکم کے خلاف ہوگا، چنانچہ مذکورہ صدر کی حدیث شریف کے مطلق حکم سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مقیم کے لئے چار رکعت کا حکم اس کی اقامت کی وجہ سے ہے، اور مسافر کے لئے دو رکعت کا حکم اس کے سفر کی حالت کی وجہ سے ہے۔ اسی لئے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ سفر خواہ اطاعت کے لئے ہو یا گناہ کے لئے، ہر دو حالتوں میں قصر کرنا ضروری ہے، اس کے بعد آنے والی حدیثوں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے (یہ مضمون فتح القدیر اور طحاوی سے ماخوذ ہے)۔