Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

کتاب ایمان کے بیان میں

Hadith 182

(کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مضبوطی سے جمے رہنے کا بیان)

In this book

Current reading

کتاب ایمان کے بیان میں

(کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مضبوطی سے جمے رہنے کا بیان)

Zujajat al-Masabih 182Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 196Noor 197
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی ایک مثال اس طرح بیان کی ہے کہ ایک سیدھی راہ ہے، اور اس کے ہر دو جانب دو دیواریں ہیں، جس میں دروازے کھلے ہوئے ہیں اور دروازوں پر پردے لٹکے ہوئے ہیں، سر راہ ایک پکارنے والا پکار رہا ہے کہ سیدھی راہ پر قائم رہو، اور ٹیڑھی راہ نہ چلو (یعنی دائیں اور بائیں جو دروازے ہیں ان کا رخ نہ کرو) اور اس سیدھے راستے پر ایک اور پکارنے والا یہ بھی پکار رہا ہے، جب بھی بندہ ان دروازوں میں سے کسی کو کھولنا چاہتا ہے (وہی پکارنے والا کہتا ہے) افسوس اس کو نہ کھول، اگر تو اس کو کھول دے گا تو اس میں داخل ہوجائے گا۔ پھر اس کی آپ نے تفسیر یوں فرمائی اور فرمایا کہ صراط سے مراد اسلام ہے، اور کھلے دروازے اللہ کے محارم (یعنی حرام کردہ چیزیں) ہیں اور لٹکے ہوئے پردے اللہ کے حدود ہیں، راستہ پر کھڑا ہو کر پکارنے والا قرآن ہے اور اس کے اوپر جو دوسرا پکارنے والا ہے وہ اللہ کا واعظ ہے جو ہر مومن کے دل میں ہے (جو ہر برائی کے وقت اس کو اس سے روکتا ہے مگر یہ اس کی سن کر اس میں مبتلا ہوجاتا ہے)۔ (اس کی روایت ”رزین“ نے کی ہے)۔ اور امام احمد اور امام بیہقی نے ”شعب الایمان“ میں حضرت نواس بن سمعان سے اس کی روایت کی ہے اور ترمذی میں اسی کا اختصار ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2859 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.