اردو
أَبُو زَاهِرِيَّةَ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے دن صحابی
رسول عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے (وہ ہم کو احادیث سنا رہے تھے) ایک
شخص لوگوں کی گردنوں پر سے پھلانگتے ہوئے ہمارے پاس آ رہا تھا اس کو دیکھ کر عبداللہ بن بسر
فرمانے (مجلسوں میں بغیر ایذاء دیئے کے پھلانگتے ہوئے اگر کوئی آئے تو یہ جائز ہے، اگر ایذاء
دیتے ہوئے پھلانگ کر آئے تو ناجائز ہے، ان صاحب کے پھلانگتے ہوئے آنے پر مجھے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کا واقعہ یاد آیا) ایک وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے
رہے تھے، ایک صاحب ایسا ہی گردنوں پر سے پھلانگتے ہوئے آ رہے تھے ان کو دیکھ کر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے (کہ خطبہ کی حالت میں تمہارا پھلانگتا ہوا آنا ہی ناجائز ہے، پھر ایذاء دیتے
ہوئے پھلانگ کر آنا اور بھی برا ہے اس لئے) تم جہاں جگہ ملی وہیں بیٹھ جاؤ۔ تمہارے پھلانگ کر
آنے سے لوگوں کو ایذاء پہنچی ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
اور امام احمد کی روایت میں اس طرح مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا کہ جب امام اپنی جگہ سے اٹھ کر جمعہ کا خطبہ دینے کے لئے جا رہا ہو، اس وقت اگر کوئی شخص
لوگوں کی گردنوں پر سے پھلانگتا ہوا جائے اور (صف میں بیٹھے ہوئے) دو شخصوں کو چیرتے ہوئے
چلے تو اس کو کچھ خبر ہے کہ وہ کیسے عذاب کا مستحق ہو رہا ہے، یاد رکھو کہ مکہ معظمہ میں جو شخص بت پرستی کا
آغاز کیا تھا، وہ دوزخ میں اپنی آنتیں کھینچتا ہوا جیسے سزا پائے گا ویسے ہی یہ شخص بھی جو گردنوں پر سے
پھلانگتے ہوئے ایذا دیتے ہوئے جاتا ہے اسی طرح کی سزا پائے گا۔
اور طبرانی کی ایک روایت میں امام احمد کی صدر کی روایت کی طرح مذکور ہے
مگر طبرانی کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں کہ (ایک شخص خطبہ کی حالت میں لوگوں کی گردنوں پر
سے پھلانگتا ہوا گزر رہا تھا، اس کو دیکھ کر حضور نے ارشاد فرمایا) میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگوں کی گردنوں
پر سے پھلانگتے ہوئے ایذا دیتے ہوئے جا رہے ہو تم اس کو معمولی بات سمجھ رہے ہو، (ایسا نہیں ہے
تم مسلمانوں کو جو ایذا دیتے ہوئے جا رہے ہو) سنو کہ جو مسلمانوں کو ایذا دیتا ہے سمجھو کہ وہ مجھے
ایذا دے رہا ہے اور جو مجھے ایذا دیتا ہے تو اس کو سمجھنا چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ایذا دے رہا ہے
(اور جو اللہ کو ایذا دیتا ہے اس کا کیا انجام ہوگا تم کو معلوم ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1118 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 1399 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.