اردو
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحٰی کے دن عیدگاہ کو جایا کرتے تھے (اس لئے عید کی نماز
عیدگاہ میں پڑھنا سنت مؤکدہ ہے مسجدوں میں جو عید کی نماز پڑھی جاتی ہے نماز تو ہو جاتی ہے مگر
مسجدوں میں بلا عذر عید کی نماز پڑھنے والا تارک سنت مؤکدہ ہے (ایسا ہی عمدۃ الرعایہ میں مذکور
ہے۔12) اور عیدگاہ پہنچنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہلا عمل یہ ہوتا کہ آپ نماز
عید ادا فرماتے (نماز عید سے پہلے عیدگاہ میں کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے اور نہ نماز عید سے پہلے
خطبہ ارشاد فرماتے بلکہ پہلے نماز عید سے فارغ ہو کر خطبہ دینے کے لئے) لوگوں کی طرف متوجہ
ہو کر کھڑے رہتے اور لوگ اپنی اپنی صفوں میں خطبہ سننے کے لئے حضور کی طرف رخ کئے بیٹھتے اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو (خطبہ میں) وعظ و نصیحت فرماتے اور جس کام کی نصیحت
کرنی (اس وقت کے لحاظ سے) مناسب ہوتی، اس کی نصیحت فرماتے اور احکام صادر فرماتے
تھے اور کہیں لشکر بھیجنا ہوتا تو (ضرورت کے موافق) لشکر کا ایک حصہ علیحدہ فرماتے یا کسی چیز کے
متعلق حکم دینے کا ارادہ ہوتا تو اس وقت اس کا حکم دیتے، اس کے بعد (عیدگاہ سے) گھر واپس
ہو جاتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے ساتھ نماز عید پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے؟ تو حضرت ابن عباس نے فرمایا: ہاں (میں نماز
عید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھا ہوں) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
ساتھ تھا) حضور گھر سے نکل کر عیدگاہ تشریف لائے پہلے عید کی نماز پڑھائے، پھر نماز کے بعد (دو)
خطبے ارشاد فرمائے۔ حضرت ابن عباس اذان اور اقامت کا کچھ ذکر نہیں کئے (اسی لئے نماز عید کے
لئے اذان اور اقامت ثابت نہیں ہے) عورتیں دور بیٹھی ہوئی تھیں اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم (کو خیال ہوا کہ خطبہ کی آواز ان تک نہیں پہنچی ہے، اسی لئے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو
ساتھ لے کر) عورتوں کی صفوں تک تشریف لے گئے، عورتوں کو وعظ و نصیحت فرمائے اور جو عورتوں
کے خاص احکام ہیں ان کو بھی ان کے سامنے بیان فرمائے اور خیرات کرنے کی ترغیب دئے۔
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ عورتیں اپنے کانوں کی بالیاں اور گلوں کے ہار اتار
اتار کر حضرت بلال کو دے رہی تھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت بلال عیدگاہ سے
گھر واپس ہوئے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Qur’an-related source paragraphs
And the saying of Allah, the Almighty: "And proclaim the greatness of Allah (2) for having guided you." (Qur’an 2:185)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 956 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 889a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (7)
Chapter-heading commentary
(2) The statement: "And proclaim the greatness of Allah..." refers to the Eid prayer, and the command indicates obligation. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.
(3) The statement: "So pray to your Lord and sacrifice." refers to the Eid al-Adha prayer, and it is obligatory due to the command. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.
Note 4
(4) The statement: "He would go out to the prayer ground on the day of Eid al-Fitr and Eid al-Adha." The prayer ground (Musalla) is a place in the desert where the Eid prayers are performed, and it is also called al-Jabanah. Going out from one’s house to the prayer is obligatory based on the principle that what completes an obligation is itself obligatory. However, going to the prayer ground is a strongly recommended Sunnah, even if the mosque is spacious enough. If they pray in the city mosques without a valid excuse, their prayer is valid, but they have abandoned the Sunnah. This is the correct view, as mentioned in Al-Zahiriyyah. This is stated in ‘Umdat al-Ri’ayah.
Chapter-heading commentary
(٢) قوله: ولتكبروا الله إلخ : المراد به صلاة العيد، والأمر للوجوب. كذا في «عمدة القاري».
(۳) قوله: فصل لربك وانحر: والمراد به صلاة عيد النحر، فتجب بالأمر. قاله في عمدة القاري».
Note 4
(٤) قوله: يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى: بصيغة المجهول هو موضع في الصحراء يصلى فيه صلاة العيدين، ويقال له : الجبانة. ومطلق الخروج من بيته إلى الصلاة وإن كان واجبا بناءً على أن ما يتم به الواجب واجب لكن الخروج إلى الجبانة سنة مؤكدة، وإن وسعهم المسجد الجامع. فإن صلوا في مساجد المصر من غير عذر جازت صلاتهم، وتركوا السنة، هذا هو الصحيح، كما في الظهيرية». قاله في «عمدة الرعاية».
Note 1
ف(1): اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ عورتیں اپنے زیورات بغیر شوہر کی اجازت کے خیرات کر رہی تھے۔ اس مسئلہ کے متعلق تحقیق یہ ہے، دیکھنا چاہئے کہ عورت اپنے مال میں سے خیرات کر رہی ہے یا شوہر کے مال میں سے؟ اگر اپنے مال میں سے خیرات کر رہی ہے جیسے اس حدیث میں مذکور ہے کہ عورتیں اپنا مال خیرات کئے ہیں تو عورتوں کو شوہروں کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ اس لئے اس حدیث شریف میں بغیر شوہروں کی اجازت کے عورتیں اپنا مال خیرات کر رہے ہیں ہاں اگر عورتیں راشدہ نہیں ہیں بے سمجھ ہیں، مال کی ان کے پاس قدر نہیں ہے تو ایسی عورتوں کو اپنا مال بھی خیرات کرنے کے لئے شوہروں کی اجازت کی ضرورت ہے اور اگر شوہر کا مال ہے اور رواج کے موافق کچھ تھوڑی چیز مثلاً روٹی اور پیسہ دو پیسہ خیرات کر رہی ہے تو اس کے لئے بھی شوہر کی اجازت کی ضرورت نہیں، ایسا ہی اگر شوہر عورت کے ہم خیال ہے عورت کے کسی کام سے ناراض نہیں ہوتا ہے تو ایسی عورت بھی شوہر کی اجازت کے بغیر شوہر کے مال کو خیرات کر سکتی ہے، شوہر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، اگر شوہر ایسا ہے کہ وہ اپنے مال کی خیرات کرنے سے ناراض ہوتا ہے تو ایسی عورت کو شوہر کی اجازت کے بغیر خیرات کرنا جائز نہیں ہے (مرقات، ملتقی، درمختار) ف(2): اس حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عیدگاہ میں عورتیں خیرات دئے ہیں، حالانکہ مسجد میں خیرات دینا جائز نہیں ہے مکروہ ہے۔ پھر عیدگاہ میں یہ خیرات دینا کیسے جائز ہوا؟! اس کا جواب یہ ہے کہ عیدگاہ مثل مسجد کے ہے، صرف جماعت کا ثواب حاصل ہونے کے لحاظ سے باقی دوسرے احکام میں عیدگاہ مثل مسجد کے نہیں ہے، اس لئے عیدگاہ میں خیرات دینا جائز ہے۔ (دیکھو ردالمحتار جلد اول باب اعادہ الصلوٰۃ و ما یکرہ فیہا کا آخری حصہ اور مرقاۃ۔)