اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2213
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص (صاحب نصاب ہے اور وہ) قربانی کرنے کی
استطاعت رکھتا ہو، باوجود اس کے پھر قربانی نہ کرے تو ایسا شخص ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔ (اس
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 3123 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "Let them not come near." Al-‘Allamah Al-‘Ayni said: "Such a warning does not apply to the abandonment of a non-obligatory act."
Note 1
لئے کہ عیدگاہ کے نمازیوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے قربانی نہ کرنے والا رحمت کا مستحق نہیں ہوتا ہے، اسی لئے ایسا شخص عیدگاہ میں نہ آئے، حضور کا اس طرح ارشاد فرمانا قربانی نہ کرنے والے پر اللہ تعالیٰ اور حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غضب کی علامت ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی نہیں کرنے والا اس وعید کا مستحق ہے۔ واجب ہی کے ترک پر وعید آئی ہے، اگر قربانی کرنا واجب نہ ہوتا تو ایسی وعید نہ آتی) (جیسا کہ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔12)۔ (اس حدیث کی روایت ابن ماجہ، حاکم اور امام احمد نے کی ہے، اور حاکم نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔) ف: واضح ہو کہ نصاب دو طرح کا ہوتا ہے ایک نصاب زکات کا ہے اور دوم نصاب فطرہ اور قربانی کا، جو شخص زکات کے نصاب کا مالک ہے تو اس پر زکات بھی آئے گی اور فطرہ اور قربانی کرنا بھی واجب ہوگا اور جو شخص زکات کے نصاب کا مالک اس طرح سے نہیں ہے کہ اس کے پاس سونا چاندی اور تجارت کا مال وغیرہ نہیں ہے بلکہ فطرہ اور قربانی کا نصاب اس پر اس طرح واجب ہے کہ ضروری اسباب جو رات دن کے برتاوے میں رہتا ہے اس کے سوا اس کے پاس اور اسباب بھی ہے جو کبھی کبھی کام میں آتا ہے اور ان سب کی قیمت اتنی ہے کہ جس پر زکوٰہ واجب ہوجاتی ہو تو اس پر عیدالفطر کے دن فطرہ اور عید الاضحی کے دن قربانی واجب ہے۔ فطرہ اور قربانی کے لئے ایسے مال پر سال گزرنے کی شرط بھی نہیں ہے۔ (ردالمحتار)۔