اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2234
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ زکات (جو صدقۂ فطر اور عُشر کو بھی شامل ہے) جب یہ فرض ہوئی تو
قرآن میں جو جو خیرات زکات فرض ہونے کے پہلے واجب تھے ان کا وجوب منسوخ ہوگیا (اب
اس خیرات کا دینا مستحب باقی رہا) اور رمضان کے روزے فرض ہونے کے پہلے دوسرے مہینوں میں
جن روزوں کا روزہ رکھنا فرض تھا مثلاً دسویں محرم کا روزہ، رمضان کے فرض ہونے سے ایسے سب
روزوں کا وجوب منسوخ ہوگیا (اب ان روزوں کا مستحب ہونا باقی رہا) اور غسل جنابت فرض ہونے
سے دوسرے غسل مثلاً جمعہ وغیرہ کا وجوب منسوخ ہوگیا (اب دوسرے غسل مستحب رہے) اور قربانی
واجب ہونے سے اور جانور جو عبادت کے طور پر ذبح کئے جاتے تھے، مثلاً عقیقہ اور فرع اور عتیرہ کا
وجوب بھی منسوخ ہوگیا (عقیقہ، فرع اور عتیرہ کا مستحب ہونا باقی رہا، عقیقہ کرنے میں کوئی شرعی
ممانعت نہیں تھی، اس لئے عقیقہ کرنا مستحب رہا، مگر فرع اور عتیرہ کہ اس میں مشرکین کے ساتھ
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1481 (unverified) 60% confidence
Mishkat (candidate) 1481
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "The Atirah is abrogated." Ali al-Qari said: "The general prohibition was to avoid resembling the idolaters." I say: Therefore, it is not recommended either.
Note 1
(۱) قوله : منسوخة وقال علي القاري : ثم وقع النهي العام للتشبه بأهل الأصنام انتهى. قلت: فلا تستحب أيضا.
Note 1
مشابہت ہو رہی تھی، گو مشرکین بتوں کے لئے کرتے تھے اور مسلمان اللہ تعالیٰ کے لئے ذبح کرتے تھے مگر مشرکین کی مشابہت کی وجہ سے فرع اور عتیرہ کا مستحب ہونا بھی منسوخ ہو گیا، اسی وجہ سے ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقات میں فرع اور عتیرہ کا منسوخ ہونا ظاہر کیا ہے اور ابوداؤد نے بھی اپنی سنن میں عتیرہ کا منسوخ ہونا لکھا ہے۔) اس حدیث کی روایت دارقطنی اور بیہقی نے کی ہے۔