اردو
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ میں (ایک دفعہ) سورج گہن ہوا تھا (کسوف شمس ہونے سے)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوف زدہ ہو کر کھڑے ہو گئے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم یہ سمجھ رہے ہیں، (کہ کسوف شمس کی وجہ سے نظام شمسی ختم ہو کر ممکن ہے) کہ قیامت قائم
ہو جائے، اسی طرح گھبرائے ہوئے مسجد میں تشریف لائے اور نماز کسوف کے لئے کھڑے ہو گئے
اور اتنے طویل قیام، طویل رکوع اور طویل سجدوں سے نماز پڑھائے کہ اتنے طویل قیام، طویل رکوع
اور طویل سجدوں سے آپ کو نماز پڑھاتے میں نے کبھی نہیں دیکھا (نماز ایسے وقت ختم ہوئی کہ کسوف
شمس کا انجلاء ہو گیا تھا اس وقت خطبہ کے طور پر نہیں فرمائے، اس لئے کہ اگر خطبہ کے طور پر تقریر ہوتی
تو کسوف کی حالت میں ہوتی، اب کسوف انجلاء کے بعد ارشاد فرما رہے ہیں، ان لوگوں کی عقائد کی
اصلاح کے لئے جو یہ سمجھ رہے تھے کہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت کی وجہ سے کسوف شمس ہوا
ہے اس لئے حضور فرمائے لوگو سنو! (تم جو سمجھ رہے ہو کہ کسوف حضرت ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہوا
ہے ایسا نہیں ہے۔) اس طرح اعتقاد نہ رکھنا بلکہ یہ کسوف شمس و قمر قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں ان کو
اللہ تعالیٰ ظاہر کرتے ہیں یہ کسی کے مرنے جینے سے نہیں ہوتے بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو
ڈرانے کے لئے بھیجا کرتے ہیں (کہ اتنی بڑی مخلوق کو، ہم سیاہ کر دیتے ہیں تم کس گنتی میں ہو، اگر ہم
چاہیں تو تم پر بھی عذاب بھیج سکتے ہیں اس لئے) جب تم سورج گہن یا چاند گہن ہوتا ہوا دیکھو تم بہت
ہی خوف زدہ ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو، اللہ کو یاد کرو، اور اسی سے دعاء مانگو، (کہ الٰہی ہم کو
اپنے عذاب سے بچائیے اور اس کسوف کو ہمارے عذاب کا ذریعہ نہ بنائیے) اور اپنے گناہوں کی اللہ
ہی سے مغفرت مانگو (گناہوں کی مغفرت مانگنے سے اللہ کا غضب رحمت سے بدل جاتا ہے۔) اس
حدیث کی روایت طحاوی نے کی ہے اور بخاری اور مسلم نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
اور بخاری اور مسلم کی ایک دوسری روایت میں اس طرح مروی ہے کہ ام
المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ میں
ایک دفعہ سورج گہن ہوا تھا حضور سورج گہن کی نماز ایسی طویل ادا فرمائے کہ (میں کبھی ایسی طویل
نماز جس کا رکوع بیحد طویل ہو، اور سجدہ بیحد طویل ہو، نہ خود پڑھی اور نہ حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے ساتھ کبھی پڑھی، جیسے کسوف کی نماز کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طویل رکوع اور طویل
سجدوں سے پڑھائے ہیں۔
بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت میں حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا
سے مروی ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج گہن کی نماز سے فارغ ہوئے اور
اس وقت کسوف شمس کا انجلاء ہو گیا تھا تو مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمائے مسلمانو! سنو، چاند اور
سورج خدا کی قدرت کے نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی (نیک انسان کے مرنے یا کسی
(برے) شخص کے پیدا ہونے سے گہن نہیں ہوتے، جب تم شمس و قمر کو گہن ہوتا ہوا دیکھو تو اللہ کی
طرف رجوع کرو، اللہ کو یاد کرو (اور سُبْحَانَ اللّٰهِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ اور اَللّٰهُ أَكْبَرُ)
کہا کرو، اور کسوف کی نماز پڑھا کرو اور خیرات کرو (کہ خیرات رد بلا ہوتی ہے۔)
(بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت میں حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ
عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے اے امت
محمدی تم کو جس طرح اپنے کسی غلام یا باندی کے زنا کرنے سے غیرت آتی ہے، (اور سخت غصہ آتا
ہے) اللہ کی قسم اس سے بڑھ کر غیرت (اور غصہ) خدائے تعالیٰ کو اس وقت آتا ہے جب اس کا کوئی
بندہ یا باندی زنا کے مرتکب ہوں، اے امت محمدی خدا کی قسم جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم اس کو جانتے
تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔
بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی
ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج گہن کی نماز سے ایسے وقت فارغ ہوئے
جب کہ کسوف شمس کا انجلاء ہو گیا تھا، (تو مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمائے (مسلمانو! سنو) چاند اور
سورج خدا کی قدرت کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں یہ کسی (نیک) انسان کے مرنے یا کسی
(برے) شخص کے پیدا ہونے سے گہن نہیں ہوتے، جب تم شمس و قمر کو گہن ہوتا ہوا دیکھو تو (اللہ کی
طرف رجوع کرو اور) اللہ کو یاد کرو، صحابہ عرض کئے یا رسول اللہ ہم (ایک عجیب بات) دیکھے (کہ
جب آپ نماز سے فارغ ہو کر نصیحت فرما رہے تھے تو اس وقت ہم آپ کو دیکھے) کہ آپ ہاتھ بڑھا
کر کوئی چیز لے رہے ہیں پھر تھوڑی دیر کے بعد ہم آپ کو دیکھے کہ آپ (کسی ہیبت ناک چیز کو دیکھ
کر) پیچھے ہٹ رہے ہیں (یہ کیا بات تھی ہم اس کو کچھ نہیں سمجھ سکتے) حضور فرمائے کہ جب تم مجھ کو
دیکھے میں ہاتھ بڑھا کر کچھ لے رہا ہوں تو سنو میرے سامنے اس وقت جنت پیش کی گئی تھی، میں
جنت میں سے انگور کا ایک خوشہ لینا چاہ رہا تھا (مگر خدا کو منظور نہیں تھا (اس لئے میں انگور کا خوشہ نہ
لے سکا) اگر میں وہ خوشہ لے لیتا جب تک دنیا باقی رہے تم اس میں سے کھاتے رہتے) اور وہ کبھی ختم
نہ ہوتا (لیکن اللہ تعالیٰ کو جو منظور ہے کہ تمہارا ایمان بالغیب رہے اور اس سے تمہاری آزمائش ہوتی
رہے، جنتی میوہ تم دیکھ لیتے تو تمہارا ایمان بالشہود ہو جاتا، پھر تم کو ایمان بالغیب کا اجر نہیں ملتا تھا) اور
جب تم مجھے دیکھے کہ میں پیچھے ہٹ رہا ہوں تو اس وقت میرے سامنے دوزخ پیش کی گئی تھی کیا کہوں
(وہ کیسا ہیبت ناک منظر تھا کہ ایسا ہیبت ناک منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا اور دوزخ میں جو جو عذاب
ہوا ہے تو وہ مجھے دکھائے گئے مجھے بڑا افسوس تو اس سے ہوا) کہ دوزخ میں کثرت سے عورتیں تھیں،
صحابہ عرض کئے: عورتیں ایسا کونسا عمل کئے ہیں جس کی وجہ سے وہ کثرت سے دوزخ میں تھیں، حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے: عورتیں ناشکری کرنے کی وجہ کثرت سے دوزخ میں تھیں، صحابہ عرض
کئے: حضور ناشکری کرنا ہماری سمجھ میں نہ آیا، کیا عورتیں اللہ تعالیٰ کی ناشکری کی وجہ سے کثرت سے
دوزخ میں ہوں گی؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: نہیں بلکہ وہ اپنے شوہروں کی
ناشکری کرتی ہیں اور شوہروں کے احسان کا انکار کرتی ہیں (اس وجہ سے کثرت سے دوزخ میں ہوں
گی) کیا تم نہیں دیکھتے کہ مرد عورت سے اگر ہمیشہ بھلائی کرتا رہے، پھر اس کی جانب سے کوئی بات
ناگوار پیش آئے، اور اس کے خلاف مرضی ہو، (تو وہ سارے احسانوں کو بھول جاتی ہے اور کہنے لگتی
ہے کہ میں تم سے کبھی کوئی آرام نہیں دیکھی۔ (یہ ہے عورتوں کی ناشکری جو دوزخ میں کثرت سے
ہونے کا سبب بنی ہے۔)
اور نسائی کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
(خوف کی حالت میں) بہت جلدی جلدی مسجد میں ایسے وقت تشریف لائے کہ سورج کو گہن لگ گیا
تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آفتاب روشن ہونے تک نماز کسوف پڑھتے رہے، (نماز کسوف کے
بعد خطبہ کے طور پر نہیں بلکہ ان لوگوں کی عقائد کی اصلاح کے لئے فرمائے) جو جاہلیت کے زمانہ میں
یہ سمجھا کرتے تھے کہ سورج گہن ہو یا چاند گہن، یہ روئے زمین کی بڑی شخصیتوں میں سے کسی بڑے
آدمی کی مرنے کی وجہ سے ہوا کرتا ہے حالانکہ (ایسا نہیں ہے بلکہ) سورج گہن ہو یا چاند گہن کسی کے
مرنے جینے سے نہیں ہوتے بلکہ سورج اور چاند یہ دونوں اللہ کی مخلوق ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں
جیسا چاہے تغیر کرتے ہیں، تو چاند یا سورج ان میں سے جب کسی کو گہن لگ جائے تو اس وقت گہن ختم
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 912 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) The statement: "Remember Allah." Abu Hanifah, Malik, and Ahmad said: "There is no sermon for the eclipse prayer." They argued that the Prophet (ﷺ) commanded prayer, takbir, and charity but did not command a sermon. If it were a Sunnah, he would have commanded it. Additionally, it is a prayer that individuals perform at home, so a sermon is not prescribed. The Prophet (ﷺ) delivered a sermon after the prayer to teach its ruling, which seems specific to that occasion. It is also said that he delivered the sermon to refute the claim that the sun eclipsed because of Ibrahim’s death, as mentioned in the hadith. This is stated in ‘Umdat al-Qari.
Note 2
(2) The statement: "The eclipse ended." In Al-Bahr, it is said: "The sermon he delivered on the day his son Ibrahim died and the sun eclipsed was to refute those who said the eclipse occurred because of his death, not because it was a prescribed practice. Therefore, he delivered the sermon after the eclipse ended. If it were a Sunnah, he would have delivered it before, like the prayer and supplication." This is mentioned in Rad al-Muhtar.
Note 1
(۱) قوله: فاذكروا الله : قال أبو حنيفة ومالك وأحمد لا خطبة فيها، قالوا: لأن النبي ﷺ أمرهم بالصلاة والتكبير والصدقة، ولم يأمرهم بالخطبة، ولو كانت سنة لأمرهم بها، ولأنها صلاة كان يفعلها المنفرد في بيته، فلم يشرع لها خطبة. وإنما خطب بعد الصلاة ليعلمهم حكمها، وكأنه مختص به. وقيل: خطب بعدها لا لها، بل ليردهم عن قولهم: إن الشمس كسفت لموت إبراهيم كما في الحديث. قاله في «عمدة القاري».
Note 2
(۲) قوله: وقد تجلت: قال في البحر»: وما ورد من خطبته يوم مات ابنه إبراهيم وكسفت الشمس، فإنما للرد على من قال: إنها كسفت لموته، لا لأنها مشروعة له. ولذا خطب له بعد الانجلاء. ولو كانت سنة له الخطب قبله، كالصلاة والدعاء. قاله في رد المحتار».
Note 1
ہونے تک نماز پڑھا کرو، ہاں اگر کوئی ایسی بات ظاہر ہو جائے جس کی وجہ سے نماز نہیں پڑھ سکتے ہیں (جیسے گہن لگا ہوا آفتاب ڈوبنے لگے یا گہن ایسے وقت ہو جبکہ اس وقت نفل نماز پڑھنا جائز نہ ہو تو ایسے وقت نماز نہیں پڑھنا چاہئے بلکہ انجلاء تک دعاء اور استغفار میں مشغول رہے۔ جیسا کہ ردالمحتار میں مذکور ہے۔)