اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2391
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (مجھے خوب یاد ہے) خود
میں سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے وفات شریف سے تین دن پہلے اس طرح ارشاد
فرمائے ہیں تم میں سے ہر ایک کی موت ایسی حالت میں ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حسن ظن رکھتا ہو۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2877a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث کی تفصیل یہ ہے کہ مسلمان کے دو بازو ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کا راستہ بہت آسانی سے طے ہوتا ہے، ایک بازو تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف رہے جس کی وجہ سے وہ گناہوں سے بچتا رہتا ہے اور دوسرا بازو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے امید رکھے جس کی وجہ سے مسلمان اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی امید رکھتا ہے، حالت صحت اور زندگی میں خوف خدا کو غالب رکھے تاکہ گناہوں سے بچتا رہے اور مرنے کے وقت خوف کی ضرورت نہیں رہی، اس لئے کہ وہ وقت گناہ کرنے کا نہیں ہے بلکہ موت کے وقت خدا کو رحیم، کریم، ستار، غفار جان کر مغفرت کی امید دل میں لیا ہوا رہے، تاکہ خوش خوش خدا کے پاس جانے کے لئے تیار رہے، مرنے سے جی نہ چرائے، یعنی مرنے کے وقت اگر خوف کی حالت رہی تو خدا کے سامنے ایسا جائے گا جیسے مالک کے سامنے بھاگا ہوا غلام ڈرتا ہوا جاتا ہے اس لئے زندگی میں حتی الامکان نیکیاں کرتے رہے اور مرتے وقت دل میں یہی امید مغفرت کی لیا ہوا رہے گا تو اللہ تعالیٰ کے سامنے ایسا جائے گا جیسے کوئی غلام مالک کے حکم کی تعمیل کرکے مالک کے سامنے بڑی بڑی امیدیں لگائے ہوئے خوش خوش جاتا ہے۔