اردو
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس بندے کو خوشحال رکھے جس نے میری حدیث سنی اور اس کو یاد رکھا اور یاد
رکھ کر لوگوں تک اس کو پہنچایا۔ کیونکہ بہت سے فقہ کا سرمایہ رکھنے والے فقیہ (یعنی سمجھ دار) نہیں
ہوتے اور بہت سے لوگ فقہ کا علم ان لوگوں تک پہنچاتے ہیں جو ان سے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں۔
تین باتیں ایسی ہیں کہ ان میں مسلمانوں کا دل خیانت نہیں کرتا (یعنی یہ باتیں مومن میں ضرور
پائی جاتی ہیں اور جب وہ ان پر عمل پیرا رہتا ہے تو اس کے دل میں کینہ نہیں پیدا ہوتا کہ اس کو حق سے
پھیر دے)۔
اور امام احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ اور دارمی نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے
روایت کی ہے البتہ ترمذی اور ابوداؤد سے (وَثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ) سے آخر تک مروی نہیں
ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3660 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2656 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 230 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 228 (unverified) 80% confidence
Mishkat (candidate) 228
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(1) ایک یہ کہ عمل میں اخلاص اور رضائے الٰہی مقصود ہو، (2) دوسرے مسلمانوں کی خیرخواہی کیا کرے (3) تیسرے لازمی طور پر مسلمانوں کی جماعت کا (عقائد اور عمل) میں ساتھ دے، اس لئے کہ مسلمانوں کی دعا کی برکت سب کو گھیرے رہتی ہے (یعنی دعا، ان کو شیطان کے مکر اور گمراہی سے بچائے رکھتی ہے، اس میں اس بات کی تنبیہ ہے کہ جو کوئی مسلمانوں کی جماعت سے نکل جاتا ہے اس کو مسلمانوں کی دعا، اور دعا کی برکت نہیں پہنچتی)۔ (امام شافعی نے اور بیہقی نے ’’مدخل‘‘ میں اس کی روایت کی ہے)۔