اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2528
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم (بے ضرورت) قبر کو گچ سے پختہ کرنے کی ممانعت فرمائے ہیں۔ (اگر کوئی ایسی ضرورت ہو مثلاً
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 970a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) The statement: "And building over them." The prohibition regarding building is disliked if it is on one's own property and forbidden in public cemeteries. Some of our scholars explained that it is also due to the waste of wealth. However, the early scholars permitted building over the graves of renowned scholars and teachers so that people could visit them and find comfort in sitting there. This is mentioned in Al-Marqah and Radd Al-Muhtar.
Note 2
(۲) قوله: وأن يبنى عليه والنهي في البناء للكراهة إن كان في ملكه وللحرمة في المقبرة المسئلة. وقال بعض الشراح من علمائنا: ولإضاعة المال، وقد أباح السلف البناء على قبر المشايخ والعلماء المشهورين، ليزورهم الناس ويستريحوا بالجلوس فيه. كذا في المرقاة» و«رد المحتار».
Note 1
کسی سے قبر کے مسمار کرنے کا خوف ہو، تو قبر کو گچ سے پختہ بنا سکتے ہیں، اس کی دلیل وہ حدیث ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے، (مَارَآهُ الْمُسْلِمُونَ حَسَنًا فَهُوَ عِنْدَ اللّٰهِ حَسَنٌ) جس فعل کو صالحین مسلمان اچھا سمجھیں، وہ اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے، ضرورت کی وجہ سے قبر کو گچ کرنا صالحین مسلمان پسند کئے ہیں، اس لئے گچ کی قبر بنانا اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر پر عمارت بنانے سے بھی منع فرمائے ہیں (اگر عمارت سے مراد یہ ہے کہ عین قبر پر ہی کوئی عمارت بنائیں جیسے بعض کفار قبر پر لاٹ بناتے ہیں تو ایسی عمارت بنانا اس حدیث سے ممنوع ہے، اور اگر قبر پر عمارت بنانے سے مراد یہ ہے کہ قبر کے اطراف کوئی عمارت مثل گنبد کے بنائی جائے اور وہ بے ضرورت ہو تو یہ بھی جائز نہیں ہے اور اگر گنبد وغیرہ کسی ضرورت سے بنائی جائے جیسے صالحین مشائخ، علماء اور سادات کے مزار پر اس غرض سے بنائی جاتی ہے کہ جو لوگ ان کے مزار پر زیارت کے لئے آتے ہیں، وہ دھوپ سے اور بارش سے محفوظ رہیں اور اطمینان سے بیٹھ کر ان سے فیض لیا کریں تو یہ جائز ہے، اس لئے کہ صالحین مسلمان اس کو اچھا سمجھتے ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ کے پاس بھی پسندیدہ ہے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر پر بیٹھنے سے بھی منع فرمائے ہیں، اس لئے کہ اس میں مردہ کی اہانت اور ذلت ہوتی ہے اور مردہ کی اہانت جن کاموں سے ہوتی ہے وہ سب منع فرماتے ہیں)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔