اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2547
مطلب بن وداعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت
عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کا جنازہ لے جا کر (بقیع میں) دفن کیا گیا تو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک صحابی کو حکم دئے کہ ایک بڑا پتھر اٹھا لاؤ (تاکہ قبر کے سرہانے کی طرف
رکھا جائے یہ معلوم ہونے کے لئے کہ یہ عثمان بن مظعون کی قبر ہے) وہ پتھر (اس قدر بڑا تھا کہ)
صحابی اس کو اٹھا کر نہ لا سکے تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پتھر کے لانے کا ارادہ فرمائے
اور اپنے دونوں آستینوں کو چڑھا کر اس پتھر کے پاس پہنچے، راوی کہتے ہیں کہ جو صاحب مجھ سے یہ
حدیث بیان کئے ہیں وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس پتھر کے لانے کے
لئے اپنے آستین چڑھائے ہیں تو حضور کے بازوؤں کی سفیدی اس وقت مجھے جو دکھائی دی اب تک
یاد ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پتھر کو اٹھا کر عثمان بن مظعون کی قبر پر سرہانے کی
طرف جما دئے، اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے (کہ مرور زمانہ سے قبر مٹ کر زمین کے
برابر ہو جاتی ہے اور لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ قبر کہاں ہے اس لئے) میں (اس پتھر کو سرہانے کی
طرف رکھ کر) لوگوں کو یہ معلوم کرانا چاہتا ہوں کہ (یہاں میرے رضاعی بھائی) عثمان بن مظعون
کی قبر ہے (میں یہ نشانی اس وجہ سے بھی رکھ رہا ہوں کہ) ان کے بعد میرے گھرانے میں سے جو بھی
وفات پائیں گے انہیں یہاں دفن کروں گا۔ (اس سے ہڑواڑ قائم کرنے کا ثبوت ملتا ہے (جیسا کہ
مرقات میں مذکور ہے۔12)) (اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3206 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "I am marking it." In Qadikhan, it is said: "There is no harm in placing stones as a marker." This is mentioned by Al-Ayni in Sharh Al-Hidayah. In Ad-Durr Al-Mukhtar, it is said: "There is no harm in writing." In Radd Al-Muhtar, it is said: "Although the prohibition of writing is established, it is not acted upon. The Imams of the Muslims, from the East to the West, have writing on their graves, and this is a practice inherited from the predecessors. This Hadith strengthens this view, as writing helps identify the grave. However, it appears that this consensus applies when there is a need for it, as indicated in Al-Muhit."
Note 1
(۱) قوله : أعلم بها: وفي قاضيخان»: ولا بأس بوضع الأحجار؛ ليكون علامة. قاله العلامة العيني في شرح الهداية». ولقوله : أعلم بها قبر أخي. قال في الدر المختار»: لا بأس بالكتابة. وقال في رد المحتار»: لأن النهي عن الكتابة وإن صح، ولكن ليس العمل عليها؛ فإن أئمة المسلمين من الشرق إلى الغرب مكتوب على قبورهم، وهو عمل أخذ به الخلف عن السلف، ويتقوى بهذا الحديث؛ فإن الكتابة طريق إلى تعرف القبر بها. نعم، يظهر أن محل هذا الإجماع العملي على الرخصة فيها ما إذا كانت الحاجة داعية إليه في الجملة، كما أشار إليه في «المحيط».