اردو
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوگ زکات لے کر آتے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام ان کے حق
میں یہ دعا فرماتے، اے اللہ! رحمت وبرکت نازل فرما اس شخص پر اور اس کے اہل وعیال پر (راوی
کہتے ہیں کہ) (ایک روز) میرے والد (ابواوفیٰ) خدمت اقدس میں زکات لے کر پہنچے تو حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء دی، اے اللہ! ابواوفیٰ اور ان کے خاندان پر رحمت وبرکت نازل
فرما۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور بخاری اور مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح مذکور ہے کہ جب کوئی
شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں زکات پیش کرتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے
حق میں یہ دعا فرماتے، اے اللہ! اس شخص پر رحمت نازل فرما۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1497 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1078a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "O Allah, bless the family of so-and-so." The author of Radd al-Muhtar in the fifth volume, in various issues, quoting from Al-Mustasfa: "The hadith: 'O Allah, bless the family of Abi Awfa' indicates that it is permissible to pray for others initially, but others cannot do so. In Ghunyat al-Fatawa: 'If you say: The Prophet's (ﷺ) saying: 'O Allah, bless the family of Abi Awfa' indicates the permissibility of using it for others, I say: It is specific to the Prophet (ﷺ) as evidence that the predecessors did not use it generally.' This is in Fusul al-Hawashi by Al-Shashi."
Note 1
(۱) قوله: اللهم صل على آل فلان: قال صاحب رد المحتار في الجزء الخامس في مسائل شتى ناقلا عن «المستصفى»: وحديث: صلى الله على آل أبي أوفى الصلاة حقه فله أن يصلي على غيره ابتداء، أما الغير فلا انتهى. وفي «غنية الفتاوى»: فإن قلت: قول النبي : اللهم صل على آل أبي أوفى يدل على جواز استعمالها في غيره؟ قلت: إنه مما خص به النبي بدليل أن السلف لم يستعملونها مطلقا. كذا في فصول الحواشي لأصول الشاشي».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زکات لانے والے کے لئے ان الفاظ سے دعا فرماتے تھے ”اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى آلِ فُلَانٍ“ اس بارے میں ردالمحتار میں لکھا ہے کہ ”اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى“ کے الفاظ سے دعا کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصوصیات سے ہے۔ دوسروں کے لئے جائز نہیں ہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے سواء کسی اور پر صلوۃ کے لفظ سے دعاء کریں، ہاں امام یا زکات وصول کرنے والے کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ زکات دینے والے کے لئے اس طرح دعاء کرے: ”آجَرَكَ اللّٰهُ فِيْمَا أَعْطَيْتَ، وَبَارَكَ اللّٰهُ فِيْمَا أَبْقَيْتَ“ (خازن۔)12 تو نے جو مال (راہ خدا میں) دیا ہے، اللہ اس کا تجھے ثواب دے، اور جو مال (زکات ادا کرنے کے بعد) تیرے پاس رہ گیا ہے، اللہ تجھے اس میں برکت دے۔