اردو
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مسلمان اپنے ہر غلام
کی طرف سے چاہے وہ یہودی ہو یا نصرانی ہی کیوں نہ ہو صدقۂ فطر ادا کرے۔
اس کی روایت عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں کی ہے۔
اور بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم
فرمایا ہے کہ صدقۂ فطر نماز عید کے لئے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔
اور بخاری کی ایک اور روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ صحابہ
رضی اللہ عنہم صدقۂ فطر عیدالفطر کے ایک دن یا دو دن پہلے ادا کر دیا کرتے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1509 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1511 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 986 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ردالمحتار میں لکھا ہے کہ مستحب ہے کہ صدقۂ فطر عیدالفطر کے دن صبح صادق کے بعد عیدگاہ جانے سے پہلے دیدیا جائے، اور اگر عیدالفطر کے دن سے پہلے اور بعد میں صدقۂ فطر دیدے تو بھی درست ہے، کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صدقۂ فطر عیدالفطر کے پہلے ادا کر دیا کرتے تھے، جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں مذکور ہے۔ صاحب ردالمحتار نے اس بارے میں یہ صراحت کی ہے کہ صحابہ اس قسم کے کام اسی وقت انجام دیتے جبکہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں سنا ہو، یا حضور کو کرتے ہوئے دیکھا ہو۔