اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2695
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (حقیقی) مسکین وہ نہیں ہے جو ایک ایک دو دو لقموں اور ایک ایک دو دو
کھجوروں کے لئے لوگوں کے گرد گھومتا رہے لیکن (حقیقی) مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہ ہو
جو اس کی کفایت کرے اور اپنی ضرورت کی تکمیل کے لئے لوگوں سے (اس کو) بے نیاز کردے اور
(وہ کسی سے سوال نہیں کرتا اس وجہ سے) لوگوں کو اس کی ضرورت کا علم نہیں ہوتا کہ اس کو خیرات دیں
اور نہ ہی وہ لوگوں کے پاس جا کر مانگتا پھرتا ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1479 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1039a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: “Who does not have enough to suffice him.” Ali Al-Qari said in Al-Mirqat: “This is evidence for the opinion of Abu Hanifah, Malik, and their followers that the poor person (miskin) is the one who owns nothing, making him worse off than the needy (faqir), who owns something but not enough to suffice him. The recipients of charity are the needy (faqir), who own less than the nisab, and the poor (miskin), who own nothing according to the school. Some say the opposite, but the first opinion is more correct. Al-Shafi’i held that the needy (faqir) is worse off than the poor (miskin).” This is mentioned in Al-Durr Al-Mukhtar and Rad Al-Muhtar.
Note 1
(۱) قوله: لا يجد غنى: أي شيئًا أو مالا يغنيه أي عن غيره ويكفيه، وفيه حجة لما ذهب إليه أبو حنيفة ومالك ومن تبعهما من أن المسكين هو الذي لا يملك شيئًا، فهو أسوأ حالا من الفقير؛ لأنه يملك ما لا يكفيه. قاله علي القاري في «المرقاة». حاصله: أن مصرف الزكاة الفقير أي من له ما دون النصاب، والمسكين أي من لا شيء له على المذهب. قيل: على العكس، والأول أصح. وعن الشافعي: أن الفقير أسوأ حالا من المسكين، الدر المختار» و«رد المحتار ملتقط منهما.
Note 1
ف: واضح ہو کہ زکات کے مستحق مسکین اور فقیر دونوں ہیں، فقیر ایسے شخص کو کہتے ہیں جس کے پاس تھوڑا سا مال ہو، اور مسکین وہ شخص ہے جس کے پاس کچھ بھی مال نہ ہو، اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ“ (سورة البلد، آیت نمبر:16، پ:30، ع:1، میں) یا کسی مسکین خاک نشین کو، اسی وجہ سے، امام اعظم اور امام مالک رحمہما اللہ دونوں کے پاس اور ان کے پاس بھی جنہوں نے ان دونوں ائمہ کی پیروی کی ہے، مسکین، فقیر سے زیادہ تنگ حال ہوتا ہے۔ یہ مضمون مرقات، درمختار اور ردالمحتار سے ماخوذ ہے۔