Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2512

(یہ باب نفل روزوں کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

(یہ باب نفل روزوں کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 2512Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2960
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ آپ کس طرح روزہ رکھتے ہیں؟ اس شخص کے طرح سوال کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غصہ آ گیا (کیونکہ اس کو سوال اس طرح کرنا چاہئے تھا کہ میں روزہ کس طرح رکھوں۔ نہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس طرح روزہ رکھتے ہیں، اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض اعمال، اسرار اور مصالح پر مشتمل ہیں جن کی امت میں تاب نہیں) جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ دیکھا تو یہ کہنا شروع کیا: ہم اس بات سے راضی ہیں کہ اللہ ہمارا پروردگار ہے۔ اور اس بات سے بھی راضی ہیں کہ اسلام ہمارا دین ہے۔ اور راضی ہیں اس بات سے بھی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے نبی ہیں، ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اللہ کے غضب سے اور اللہ کے رسول ﷺ کے غضب سے۔ حضرت عمرؓ بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ جاتا رہا (جب حضرت عمرؓ نے یہ دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ہے) تو خود حضرت عمرؓ نے (روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کے آداب اور احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے) اس طرح سوال کرنا شروع کیا کہ یا رسول اللہ اس شخص کا کیا حال ہے جو ہر روز روزہ رکھتا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ایسے شخص نے نہ تو روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا (یعنی روزہ نہ رکھا۔ اس لئے کہ ہمیشہ روزہ رکھنے سے وہ روزہ کا عادی ہوجاتا ہے اور ہمیشہ روزہ رکھنے کی وجہ سے روزہ کی مشقت باقی نہیں رہتی، اور عبادت نام ہے عادت کو توڑنے کا) حضرت عمرؓ نے پھر عرض کیا: (یا رسول اللہﷺ!) اس شخص کا کیا حال ہے جو دو دن روزہ رکھے اور ایک دن روزہ چھوڑ دے: تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر) فرمایا: کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا: کہ اگر کوئی شخص ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن روزہ نہ رکھے تو اس کا کیا حال ہے: تو حضورﷺ نے فرمایا کہ یہ حضرت داؤد پیغمبر علیہ السلام کا روزہ ہے۔ پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ اگر کوئی شخص ایک دن روزہ رکھے اور دو دن روزہ چھوڑ دے تو اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: میں دل سے چاہتا ہوں) کہ مجھے اس کی طاقت ملے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (بطور خود مستحب روزوں کی تفصیل اس طرح ارشاد فرمائی کہ) ہر مہینہ میں تین روزے (رکھنا) خواہ وہ ایام بیض میں ہوں یا دوشنبہ اور پنجشنبہ کے روزے ہوں) اور رمضان کے روزے (رکھنے والے کا حکم) اس شخص کا ہے جیسے اس نے سال بھر کے روزے رکھے (اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ’’جو ایک نیکی کرے اس کو دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔ اس طرح ہر مہینہ کے تین روزے گویا ثواب میں تیس روزوں کے برابر ہیں، اس کے بعد حضورﷺ نے پھر فرمایا کہ) عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ (اس کی برکت سے) گزرے ہوئے ایک سال کے گناہوں کو اور آنے والے ایک سال کے گناہوں کو معاف فرما دیں گے اور عاشوراء کے دن روزہ رکھنے سے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ (اس کی برکت سے) گزرے ہوئے سال کے گناہوں کا کفارہ بنا دیں گے (عرفہ کے روزہ کی فضیلت عاشوراء کے روزہ پر اس لئے ہے کہ عرفہ کا روزہ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مستحب قرار دیا گیا اور عاشوراء کا روزہ شریعت موسوی (على صاحبها السلام) میں تھا۔ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بطور مستحب کے باقی رکھا)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1162a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 4

He has not fasted nor broken his fast.

(4) The statement: "He has not fasted nor broken his fast." Shaykh Ibn al-Humam said: "Fasting the entire year is disliked because it weakens a person or becomes a habit, and worship is based on going against one’s habits." This is mentioned in Al-Mirqah.

Note 4

قوله

(٤) قوله : لا صام ولا أفطر: وقال الشيخ ابن الهمام يكره صوم الدهر ؛ لأنه يضعفه أو يصير طبعا له، ومبني العبادة على مخالفة العادة. كذا في «المرقاة».