اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3059
ابو سعید بن المعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ
میں مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مجھے آواز دے کر) بلایا میں
نے جواب نہیں دیا اس لئے کہ میں نماز میں مشغول تھا، جب نماز سے فارغ ہوا تو پھر حضور کی خدمت
میں حاضر ہوا اور (بطور عذر کے) عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میں نماز پڑھ رہا تھا اس لئے جواب نہ
دے سکا یہ سن کر حضور نے ارشاد فرمایا کہ: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نہیں دیا ہے ”اِسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ
وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ“ (سورۂ انفال، آیت نمبر:23) تم اللہ اور اس کے رسول کے کہنے کو
بجا لایا کرو (اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصوصیات میں شامل ہے
کہ آپ کے بلاوے پر حالت نماز میں بھی نمازی آپ کے حکم کی تعمیل کرے۔ (طحاوی) جب کہ
رسول تمہیں بلائیں۔ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تم کو قرآن کی سب سے بڑھ کر عظمت والی
سورت نہ سکھلاؤں (قبل اس کے کہ تم مسجد سے باہر جاؤ) یہ کہہ کر حضور نے میرا ہاتھ پکڑ لیا (کچھ دیر
بعد) جب ہم مسجد سے نکلنے کا ارادہ کئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ آپ نے فرمایا تھا کہ تم کو
قرآن کی سب سے بڑھ کر عظمت والی سورت سکھلاؤں گا تو آپ نے فرمایا (ہاں) وہ سورۃ الحمد
لله رب العالمين (یعنی سورۂ فاتحہ ہے) اس میں سات آیتیں ہیں جو نماز میں بار بار پڑھی جاتی
ہیں اور یہی قرآن عظیم ہے۔ جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4474 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
(1) The statement: "Respond to Allah and the Messenger..." Al-Hafiz said in Al-Fath: "The scholars ‘Abdul Wahhab and Abu al-Walid from the Malikis held that responding to the Prophet (ﷺ) during prayer is obligatory, and neglecting it is sinful—a ruling specific to the Prophet (ﷺ). The Shafi’is also hold this view, though they differ on whether the prayer becomes invalid or not." I say: As for the Hanafis, al-Tahtawi said in Hashiyat Maraqi al-Falah: "It is obligatory for the one praying to respond to the Prophet (ﷺ), and there is no disagreement that the prayer becomes invalid if he does not, as mentioned by Badr in his Tafsir of Surah Al-Anfal."
Note 2
(2) The statement: "Alhamdulillahi Rabbil-‘Alamin" indicates that the Basmalah is not part of Surah Al-Fatihah, otherwise he would have said, "Bismillahir-Rahmanir-Rahim, Alhamdulillahi Rabbil-‘Alamin."
Note 1
(۱) قوله: استجيبوا إلخ: قال الحافظ في «الفتح»: والذي تأوّل القاضيان عبد الوهاب وأبو الوليد أن إجابة النبي ﷺ في الصلاة فرض، يعصي المرء بتركه، وإنه حكم يختص بالنبي ﷺ ، وما جنح إليه القاضيان من المالكية هو قول الشافعية على اختلاف عندهم بعد قولهم بوجوب الإجابة، هل تبطل الصلاة أم لا؟ انتهى. قلت: وأما عند الحنفية فقال الطحطاوي في حاشية مراقي الفلاح: يفترض على المصلي إجابة النبي ﷺ لا خلاف في بطلانها حينئذ، كذا ذكره البدر في تفسير سورة الأنفال. قاله في بذل المجهود».
Note 2
(۲) قوله : قال الحمد لله رب العالمين بدل على أن التسمية ليست بجزء من سورة الفاتحة، وإلا قال: بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين.
Note 1
(ف 1): اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورہ فاتحہ کی ابتداء ”الحمد لله رب العالمين “ سے فرمائی ہے اور ”بسم الله الرحمن الرحيم“ سے سورہ فاتحہ کی ابتدا نہیں کی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ”بسم الله الرحمن الرحيم“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے بلکہ ایک مستقل آیت ہے۔ (ف 2): اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورہ فاتحہ کو اعظم سورة من القرآن: قرآن شریف کی سب سے عظمت والی سورت ارشاد فرمایا ہے) اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ قرآن شریف کی اس سورت میں جو جامعیت ہے وہ کسی اور سورت میں نہیں ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء سے اس کی ابتداء کی گئی ہے پھر الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ میں صالحین کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ کے وعدہ کی طرف اشارہ ہے اس کے بعد ”مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ“ میں نافرمان بندوں کے لئے آخرت میں سزا اور ان کے لئے وعید کا ذکر ہے پھر عبادت و استعانت کا اللہ تعالیٰ ہی کے لئے مخصوص ہونے کا بیان ہے اس کے بعد بندوں کے لئے سوال کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ ان کا بہترین سوال ہدایت کی طلب ہے۔ اور ان لوگوں کے راستہ کی طلب ہے جن پر انعام ہو۔ جیسے انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین اور آخر میں گمراہوں اور مغضوبین کے راستہ اور پیروی سے نجات کی طلب کا بھی بیان ہے اس طرح سے سورہ فاتحہ میں سارے سالکین کے سارے معاملات اور منازل کا ذکر ہے۔ اور حدیث شریف میں اس سورت کو قرآن ”عظیم“ جو فرمایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جو مطالب پورے قرآن میں مفصل مذکور ہیں ان کا بیان سورہ فاتحہ میں مجمل موجود ہے۔