اردو
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طہارت اور وضوء نصف ایمان ہے اور الحمدللہ کا ثواب میزان عمل کو بھر دیتا ہے
اور دونوں کلمے ”سُبْحَانَ اللّٰهِ“ اور ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کا ثواب یا فرمایا ان میں سے ہر ایک کلمہ کا ثواب
آسمان اور زمین کی درمیانی وسعت کو بھر دیتا ہے اور نماز نور ہے اور خیرات (ایمان کی صداقت پر)
دلیل ہے اور صبر روشنی ہے (یعنی گناہوں سے باز رہنا، طاعتوں پر مستعد رہنا اور مصیبتوں پر جزع و
فزع نہ کرنا، یہ سب قبر میں روشنی کا سبب ہیں) اور قرآن تمہارے حق میں دلیل ہے یا تمہارے خلاف
حجت ہے (یعنی اگر قرآن پر عمل کیا ہے تو وہ نفع دے گا اور عمل نہیں کیا ہے تو وہ نقصان پہنچائے گا اور
جھگڑے گا) اور ہر شخص صبح کرتا ہے تو اپنے نفس کو بیچ ڈالتا ہے، اب اس کو آزاد کرا دے گا یا اس کو تباہ اور
برباد کر دے گا (یعنی جب صبح ہوتی ہے تو عمل کے اعتبار سے انسان کی دو حالتیں ہوتی ہیں، اگر اس
نے اچھے عمل کئے تو اپنے کو عذاب سے محفوظ کر لیا ورنہ برے اعمال کر کے اپنے کو ہلاک کر ڈالا)۔
(مسلم نے اس کی روایت کی ہے۔)
اور ایک اور روایت میں ہے کہ ”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ“ اور ”اللّٰهُ اَكْبَرُ“ ان دونوں
کلموں کا ثواب آسمان اور زمین کی درمیانی وسعت کو بھر دیتا ہے۔
Qur’an-related source paragraphs
Allah the Exalted says:
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 223 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 281 (unverified) 93% confidence
Mishkat (candidate) 281
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) His statement: "Purification is half of faith" — the most apparent explanation is that it is considered half because faith removes both major and minor sins, whereas ablution specifically pertains to the removal of minor sins. Additionally, according to our school of thought, this ablution must also be accompanied by intention for it to become an act of worship that expiates sins. This is as mentioned in Al-Mirqat.
Note 2
(۲) قوله: الطهور شطر الإيمان الأظهر أن يقال: إنما كان شطرا له؛ لأن الإيمان يحط الكبائر والصغائر، والوضوء يختص بالصغائر، ولا بد من تقييد هذا الوضوء عندنا أيضًا بالنية؛ ليصير عبادة مكفرا للسيئة. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: طہارت اور وضوء، نصف ایمان ہے، ایمان کا نصف اس لئے ہے کہ ایمان سے کبیرہ اور صغیرہ گناہ مٹ جاتے ہیں اور وضوء سے صرف صغیرہ گناہ دور ہوتے ہیں اور اس وضوء کو احناف کے نزدیک بھی نیت سے مشروط کرنا ضروری ہے تاکہ وضوء ایسی عبادت قرار پائے جس سے گناہ دور ہوتے ہوں اور یہ بغیر نیت کے ایسی عبادت نہیں؛ کیونکہ بغیر نیت کا وضوء، عبادت کے لئے صرف وسیلے اور ذریعہ کا کام دیتا ہے جس سے نماز تو صحیح ہو جاتی ہے مگر ایسے وضوء پر اجر و ثواب نہیں ملتا۔ (از مرقات)12۔