اردو
حارث بن سوید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن مسعود
رضی اللہ عنہ نے (توبہ کے بارے میں) دو حدیثیں بیان کی ہیں، ایک حدیث (مرفوع ہے) جس کی
سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتی ہے۔
اور دوسری حدیث موقوف ہے) جس کی روایت خود حضرت ابن مسعود رضی
اللہ عنہ سے ہے اور (اس حدیث موقوف میں) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (بندہ
مومن اپنے گناہوں سے بہت ڈرتا ہے چنانچہ) مومن اپنے گناہوں کو ایسا سمجھتا ہے کہ گویا وہ ایک
پہاڑ ہے جس کے نیچے وہ بیٹھا ہوا ہے اور ڈر رہا ہے کہ (نہ معلوم کہ) وہ پہاڑ کب اس پر گر پڑے اور
(اس کے برخلاف) فاجر و فاسق اپنے گناہوں کو (اتنا ہلکا) سمجھتا ہے کہ جیسے مکھی کہ وہ اس کی ناک پر
بیٹھے اور وہ اس کو ہاتھ کے اشارہ سے اڑا دے (یعنی وہ گناہوں سے بے پروا رہتا ہے اور توبہ نہیں کرتا
ہے) پھر اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (مرفوع حدیث سنائی) اور فرمایا کہ:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا کہ: اللہ تعالیٰ اپنے بندہ مومن توبہ سے
بہت خوش ہوتے ہیں اس شخص (کی خوشی) سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جو (سفر میں) ایک لق
ودق صحرا میں جہاں ہلاکت کا اندیشہ ہو اترا اور اس کے ساتھ اس کی سواری ہے جس پر اس کا کھانا
اور پانی ہے پس وہ ایک جگہ (پڑاؤ ڈالا) اور سوگیا۔ جب نیند سے بیدار ہوا تو دیکھا کہ اس کی سواری
غائب ہے وہ سواری کی تلاش میں نکلا اور گرمی اور بھوک پیاس کی شدت اور رنج غم میں گرفتار ہوگیا جو
اللہ تعالیٰ کو منظور تھیں (کافی تلاش کے بعد) اس نے کہا کہ: اسی جگہ واپس لیٹ جائیں جہاں میں
اترا ہوں اور وہاں اپنے بازو پر سر رکھ کر موت کے انتظار میں سوگیا پھر جب اس کی آنکھ کھلی تو کیا دیکھتا
ہے کہ اس کی سواری اس کے سامنے کھڑی ہے جس پر اس کا کھانا اور پانی بھی موجود ہے تو اس شخص کو
(ایسی حالت میں) اپنی گم شدہ سواری اور توشے کے واپس ملنے کی جو خوشی ہوگی اللہ تعالیٰ کو اپنے بندۂ
مومن کی توبہ سے اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6308 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2744a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.