ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حج اور عمرہ کو (قران کی نیت
سے) جمع کیا اور دو طواف اور دو سعی ادا کئے اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے
ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔
ف: واضح ہوکہ مذہب حنفی میں قارن کے لئے چار طواف ہیں:
(1) طواف عمرہ (جو عمرہ ادا کرنے والے کے لئے فرض ہے
(2) طواف قدوم (یہ طواف قارن اور مفرد کے لئے سنت ہے جب کہ یہ پہلی دفعہ کعبہ اللہ
میں داخل ہوں)
(3) طواف زیارت، یہ طواف ہر حاجی پر فرض ہے اور اس کا وقت دسویں ذوالحجہ کی فجر سے لے کی
بارھویں ذوالحجہ کی مغرب تک ہے
(4) طواف وداع۔ اس کو طواف رخصت بھی کہتے ہیں، یہ طواف ہر آفاقی پر واجب ہے خواہ
وہ مفرد ہو یا قارن ہو یا متمتع اس کا وقت طواف زیارت کے بعد سے اور مکہ معظمہ سے رخصت ہونے سے
پہلے تک ہے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر قران کی نیت سے حج ادا فرمایا
اور تین طواف ادا فرمائے تھے۔ پہلا طواف آپ نے عمرہ کا چوتھی ذوالحجہ کو ادا فرمایا جب کہ آپ مکہ
معظمہ میں داخل ہوئے۔ دوسرا طواف آپ نے دسویں ذوالحجہ کو ادا فرمایا جو طواف زیارت تھا۔ اور تیسرا
طواف آپ نے چودھویں ذوالحجہ کو ادا فرمایا جو طواف وداع تھا۔ رہا طواف قدوم جو قارن کے لئے سنت
ہے وہ طواف عمرہ جس کو آپ نے پہلی دفعہ ادا فرمایا اس میں ادا ہوگیا جیسے ایک شخص مسجد میں باوضو داخل
ہوا اور فوراً کوئی سنت پڑھ لے تو تحیۃ المسجد کی ادائی بھی اس میں ہو جاتی ہے۔
رہا یہ کہ صدر کی احادیث شریفہ میں دو طواف ہے اور دو سعی کا جو ذکر ہے، ان دو طوافوں سے
مراد ایک عمرہ کا مستقل طواف اور دوسرے حج کا فرض طواف اور دو سعی سے مراد ایک عمرہ کی مستقل سعی
اور دوسرے حج کی مستقل سعی ہے اور ہر دو طواف اور ہر دو سعی کا علیحدہ علیحدہ ادا کرنا قارن کے لئے
ضروری ہے اور یہی مذہب حنفی ہے۔ ماخوذ از عرف شذی۔
اور فتح القدیر میں لکھا ہے کہ قارن کے لئے (طواف وداع کے سواء) دو مستقل طواف اور دو
مستقل سعی کی روایت اکابر صحابہ جیسے حضرت عمر حضرت علی حضرت ابن مسعود اور حضرت عمران بن حصین
رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے اور یہ بہرحال قابل ترجیح ہے۔12
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہوکہ مذہب حنفی میں قارن کے لئے چار طواف ہیں: (1) طواف عمرہ (جو عمرہ ادا کرنے والے کے لئے فرض ہے (2) طواف قدوم (یہ طواف قارن اور مفرد کے لئے سنت ہے جب کہ یہ پہلی دفعہ کعبہ اللہ میں داخل ہوں) (3) طواف زیارت، یہ طواف ہر حاجی پر فرض ہے اور اس کا وقت دسویں ذوالحجہ کی فجر سے لے کی بارھویں ذوالحجہ کی مغرب تک ہے (4) طواف وداع۔ اس کو طواف رخصت بھی کہتے ہیں، یہ طواف ہر آفاقی پر واجب ہے خواہ وہ مفرد ہو یا قارن ہو یا متمتع اس کا وقت طواف زیارت کے بعد سے اور مکہ معظمہ سے رخصت ہونے سے پہلے تک ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر قران کی نیت سے حج ادا فرمایا اور تین طواف ادا فرمائے تھے۔ پہلا طواف آپ نے عمرہ کا چوتھی ذوالحجہ کو ادا فرمایا جب کہ آپ مکہ معظمہ میں داخل ہوئے۔ دوسرا طواف آپ نے دسویں ذوالحجہ کو ادا فرمایا جو طواف زیارت تھا۔ اور تیسرا طواف آپ نے چودھویں ذوالحجہ کو ادا فرمایا جو طواف وداع تھا۔ رہا طواف قدوم جو قارن کے لئے سنت ہے وہ طواف عمرہ جس کو آپ نے پہلی دفعہ ادا فرمایا اس میں ادا ہوگیا جیسے ایک شخص مسجد میں باوضو داخل ہوا اور فوراً کوئی سنت پڑھ لے تو تحیۃ المسجد کی ادائی بھی اس میں ہو جاتی ہے۔ رہا یہ کہ صدر کی احادیث شریفہ میں دو طواف ہے اور دو سعی کا جو ذکر ہے، ان دو طوافوں سے مراد ایک عمرہ کا مستقل طواف اور دوسرے حج کا فرض طواف اور دو سعی سے مراد ایک عمرہ کی مستقل سعی اور دوسرے حج کی مستقل سعی ہے اور ہر دو طواف اور ہر دو سعی کا علیحدہ علیحدہ ادا کرنا قارن کے لئے ضروری ہے اور یہی مذہب حنفی ہے۔ ماخوذ از عرف شذی۔ اور فتح القدیر میں لکھا ہے کہ قارن کے لئے (طواف وداع کے سواء) دو مستقل طواف اور دو مستقل سعی کی روایت اکابر صحابہ جیسے حضرت عمر حضرت علی حضرت ابن مسعود اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے اور یہ بہرحال قابل ترجیح ہے۔12