Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Hadith 3018

(اس باب میں حجۃ الوداع کا بیان ہے)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

(اس باب میں حجۃ الوداع کا بیان ہے)

Zujajat al-Masabih 3018Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3580Noor 3581
قتیبہ ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایام تشریق یعنی گیارہ، بارہ اور تیرھویں ذوالحجہ) کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ اور طحاوی کی ایک روایت میں اسمعیل بن محمد بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں۔ حضرت سعد فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں منیٰ کے دنوں میں یہ ندا کر دوں کہ یہ دن کھانے، پینے اور (اپنی بیویوں سے) جماع کرنے کے دن ہیں۔ (اس لئے کہ طواف زیارۃ کے بعد عورتیں اپنے شوہروں کے لئے حلال ہو جاتی ہیں) تو ان دنوں یعنی ایام تشریق میں روزے نہ رکھو(عنایہ میں بھی اس بارے میں ایک روایت اس طرح ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا خبردار ان دنوں یعنی ایام تشریق میں روزے نہ رکھو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1141b (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

قوله

(۱)قوله : أيام التشريق إلخ وقال في فتح القدير: فيتقيد به أي بالنهي المشهور عن صوم هذه الأيام للنص، وهو قوله تعالى: ﴿فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجَّ (البقرة: (١٩٦)؛ لأن المشهور يتقيد إطلاق الكتاب به، فيتقيد وقت الحج المطلق بما لم ينه عنه.

Note 2

قوله

(۲) قوله : فلا صوم فيها وفي رواية : قال : ألا لا تصوموا في هذه الأيام. كذا في «العناية».

Note 1

ایام جاہلیت میں عرب شہور حج میں عمرہ ادا کرنے کو بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے اسی جاہل رسم کو ختم کرنے کے لئے حکم دیا کہ جس شخص نے صرف حج کا احرام باندھا ہے اور وہ اس احرام کو فسخ کر دے اور عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ ادا کرے، پھر اس کے بعد حج کا احرام باندھ لے۔ یہ حکم زمانہ جاہلیت کے اس عقیدہ کو توڑنے کے لئے دیا گیا تھا اور یہ صرف اسی سال کے لئے تھا اور یہ حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خاص تھا۔ اب کوئی شخص حج کا احرام باندھ کر اس کو فسخ نہیں کر سکتا۔ ذیل کی حدیثیں اسی کی تائید میں آ رہی ہیں: