اردو
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر طواف فرمایا اور (دوران طواف اپنی عصا جس کا
سرا خم دار (مڑا ہوا) تھا حجر اسود کو لگاتے تھے اور اس کو بوسہ دیتے تھے۔
ابو داؤد کی ایک روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی مروی
ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب مکہ معظمہ تشریف لائے تو آپ
بیمار تھے اس لئے آپ نے سواری پر طواف فرمایا اور (دوران طواف) جب کبھی رکن حجر اسود کے
روبرو تشریف لاتے تو اپنی عصا سے جس کا سرا خم دار (مڑا ہوا) تھا حجر اسود کو مس کرتے اور عصا کے
اس حصہ کو چوم لیتے تھے۔ پھر جب آپ طواف سے فارغ ہوئے تو سواری کو بٹھائے اور (سواری
سے اتر کر) دوگانہ طواف ادا فرمائے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1607 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1272 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1881 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) The statement "on a camel": The reasons for riding vary in narrations—some mention illness, others visibility for the people.
Note 2
(۲) قوله: على بعير : اختلفت الروايات في سبب ركوبه في الطواف، ففي رواية ابن عباس عند أبي داود: «أن رسول الله ﷺ قدم مكة، وهو يشتكي فطاف على راحلته، ووقع في حديث جابر عند مسلم أن النبي ﷺ طاف راكبا؛ ليراه الناس، وليسألوه»، فيحتمل أن يكون فعل ذلك لأمرين وحينئذ لا دلالة فيه على جواز الطواف راكبا بغير عذر قاله في بذل المجهود». ولذلك قال في فتح القدير: ومن طاف راكبا أو محمولا أو سعى بين الصفا والمروة، كذلك إن كان بعذر جاز، فلا شيء عليه، وإن كان بغير عذر فما دام بمكة يعيد، فإن رجع إلى أهله بلا إعادة فعليه دم؛ لأن المشي واجب عندنا على هذا نص المشايخ، وهو كلام محمد.
Note 1
ف: واضح ہو کہ مذہب حنفی میں طواف اور سعی بین الصفا والمروۃ پیدل کرنا واجب ہے۔ البتہ کسی عذر کی وجہ سے طواف اور سعی سواری پر ادا کی تو یہ جائز ہے، اور اس پر دم لازم نہ ہوگا اور اگر کسی نے بغیر عذر طواف اور سعی سواری پر ادا کی تو اس کو چاہئے کہ مکہ معظمہ کے قیام میں طواف اور سعی کا پیدل اعادہ کر لے اور اگر ایسا شخص اعادہ کئے بغیر اپنے وطن واپس ہو جائے تو اس پر دم لازم ہوگا۔ فتح القدیر۔12