اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3630
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم (حجۃ الوداع کے موقع پر نویں ذوالحجہ کو عرفات میں قیام کرنے کے بعد مزدلفہ کے لئے)
عرفہ سے روانہ ہوئے اور آپ اطمینان اور وقار کے ساتھ چلے اور (اونٹ پر) آپ کے پیچھے حضرت
اسامہ رضی اللہ عنہ سوار تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو (جب کہ وہ اپنی سواریوں کو تیز
ہانک رہے تھے) مخاطب کر کے ارشاد فرمائے اے لوگو! وقار اور اطمینان کے ساتھ چلو، اس لئے کہ
(تیز دوڑانے کے لئے) گھوڑوں اور اونٹوں کو مارنا نیکی نہیں ہے۔
اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1920 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Chapter-heading commentary
(۱) قوله : فاذكروا الله بالتلبية والتهليل والتكبير والثناء والدعوات أو بصلاة المغرب والعشاء. كذا في المدارك».
Note 1
(۱) قوله: وعليه السكينة: أي أفاض الإمام والناس، وعليهم سكينة والوقار، فإذا وجد فرجة أسرع المشي بلا إيذاء، وقيل: لا يسن الإيضاع، أي لا يسن في زماننا للكثرة الإيذاء «اللباب وشرحه. كذا في رد المحتار» و«فتح القدير» مما في الصحيحين أنه عليه كان يسير العنق، فإذا وجد فجوة نص، وفسر بأن العنق خطا فسيحة محمول على خطا الناقة؛ لأنها فسيحة في نفسها، إذا لم تكن مثقلة جدا.
Note 1
ف: واضح ہو کہ صدر کی حدیث اور بعد میں آنے والی حدیثوں میں عرفات سے واپسی پر اطمینان اور وقار کے ساتھ روانگی کا جو حکم ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ واپسی پر اطمینان اور وقار کے ساتھ روانگی کا جو حکم ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ واپسی میں راستہ کشادہ ہو اور ہجوم کم ہو تو بغیر کسی کو تکلیف پہنچائے تیز سواری کو تیزی سے چلانا درست ہے اور ایک قول یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں چونکہ ایذا رسانی کے گناہ سے بچنے کا خیال ہی نہیں رہا ہے، اس لئے سواریوں کو تیز دوڑانا جس سے لازماً لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے ممنوع ہے۔ ردالمحتار۔12