اردو
قبیصہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم کے مبارک زمانہ میں ایک مرتبہ سورج گہن ہوا تو آپ ﷺ نے نماز کسوف ایسی ہی پڑھائی
جیسے اور نمازیں تم پڑھا کرتے ہو۔
اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے (نماز کے بعد خطبہ میں ارشاد فرمایا) آج میں نے اس نماز میں ان چیزوں کو دیکھ لیا جس کا
تم سے وعدہ کیا گیا ہے اور وعید بھی سنائی گئی ہے۔ اس نماز میں میرے سامنے دوزخ لائی گئی اور یہ
اس وقت ہوا جب کہ تم نے مجھے نماز میں پیچھے ہٹتے دیکھا ہوگا اور میں اس وقت دوزخ کے شعلوں
سے بچنے کے لئے پیچھے ہٹ گیا تھا اور میں نے دوزخ میں ایک شخص کو دیکھا کہ جس کے پاس ایک
لکڑی تھی جس کا سرا مڑا ہوا تھا۔ اور یہ شخص اپنی آنتوں کو کھینچتا ہوا چل رہا تھا اور یہ شخص وہی تھا جو اپنی
اس لاٹھی سے حاجیوں کی چیزوں کو چرا لیا کرتا تھا اس کے اس عمل کو کوئی دیکھ لیتا تو کہہ دیتا یہ چیز
میری لاٹھی میں الجھ گئی ہوگی اور اگر (صاحب مال) غافل رہتا تو یہ مال لے جاتا۔ حضور صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اس بلی والی عورت کو بھی (دوزخ میں) دیکھا کہ جس نے اپنی
بلی کو باندھ رکھا تھا کہ نہ تو اسے کھانے کو دیتی اور نہ کھول دیتی کہ وہ حشرات الارض کو کھا لیتی یہاں
تک کہ بلی بھوک سے مر گئی۔ پھر میرے سامنے جنت بھی لائی گئی اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب
کہ تم نے مجھے نماز میں آگے بڑھتے ہوئے دیکھا پھر میں اپنی جگہ کھڑا ہوگیا اور ہاتھ بڑھا کر چاہتا تھا
کہ جنت کا کوئی پھل توڑ دوں تاکہ تم اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔ مجھے مناسب معلوم نہ ہوا کہ ایسا
کروں (کیونکہ اس سے ایمان بالغیب باقی نہیں رہتا)۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) “Prayed as you pray”: This was explained in the eclipse chapter. [From Al-Marqah].
Note 1
(۱) قوله : فصلى كما تصلون: وقد مضى تحقيقه في باب الخسوف».
Note 1
(مذکورہ بالا مسلم کی روایت سے معلوم ہوا کہ کسی کی آزادی کو سلب کر لینا چاہے وہ جانور ہی کیوں نہ ہو اور کسی مال کو اڑا لینا دوزخ میں جلنے کا سبب ہے)۔