اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3648
عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ (حجۃ الوداع
کے موقع پر) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایسے وقت پہنچا کہ آپ
مزدلفہ میں قیام فرمائے ہوئے تھے (اور نماز کے لئے نکل رہے تھے میں نے عرض کیا کہ وہ دور دراز سے
یعنی طی کی پہاڑیوں سے اس وقت مزدلفہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں کیا میرا حج ہوا یا
نہیں؟) تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے یہاں (مزدلفہ میں) نماز ادا کی اور پھر ہمارے ساتھ
وقوف کیا اور اس سے پہلے (نویں ذوالحجہ کو) رات میں یا دن میں (زوال کے بعد سے لے کر دسویں
کی صبح صادق تک) عرفات میں تھوڑا سا قیام بھی کر لے تو اس کا حج ادا ہو جائے گا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 3041 (unverified) 48% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) "His Hajj is complete": This links the validity of Hajj to standing at Muzdalifah, suggesting its obligation (not just recommendation). This is supported by Ibn Umar's narration about sending the weak ahead - if it were a pillar (rukn), this wouldn't be permitted. (Fath al-Qadir, Al-'Inayah)
Note 1
(۱)قوله : فقد تم حجه علق بالوقوف تمام الحج، وهو يصلح؛ لإفادة الوجوب؛ لعدم القطعية، فكيف مع حديث البخاري عن ابن عمر أنه كان يقدم ضعفة أهله، فعلم من هذا الحديث أن المراد من تعليق تمام الحج في قوله ﷺ : من وقف معنا هذا الموقف إلخ من حيث الكمال، وهو الإتيان بالواجب، لا من حيث الجواز، «فتح القدير» والعناية» ملتقط منهما.
Note 1
(اس سے معلوم ہوا کہ وقوف عرفہ فرض ہے اور وقوف مزدلفہ واجب ہے) اس حدیث کی روایت نسائی نے اصحاب سنن، ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور حاکم نے مستدرک میں کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث تمام ائمہ حدیث کے شرائط کے مطابق صحیح ہے۔