اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4047
قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی
اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ (ایک دفعہ) مدینہ منورہ میں اس خبر سے اضطراب پیدا ہو گیا کہ کفار کا
لشکر کہیں قریب آ گیا ہے۔ (یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا
گھوڑا (سست رفتاری کی وجہ سے) جس کو مندوب کہا جاتا تھا عاریتاً لیا آپ اس پر سوار ہو کر (تنہا)
نکل گئے اور (صورت حال دریافت فرما کر) واپس تشریف لائے اور فرمایا کہ خوف کی کوئی بات
نہیں ہے اور (گھوڑے کی نسبت) فرمایا، ہم نے تو اس کو (اب) کافی تیز رفتار پایا۔ اس حدیث کی
روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 2627 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2307b (unverified) 87% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) “Borrowed a horse”: This permits borrowing, which is granting benefit without compensation, per Abu Bakr Ar-Razi. Al-Karkhi and Ash-Shafi‘i say it is permitting benefit, not ownership, so the borrower cannot lease it. The first is sounder, as the borrower may lend it, unlike mere permission. Leasing is not allowed as it is stronger than borrowing, and a thing does not entail its equal or stronger. [From Umdat Al-Qari].
Note 1
(۱)قوله : فاستعار النبي ﷺ فرسا: وفيه جواز العارية، وهي تمليك المنفعة بلا عوض، وهو اختيار أبي بكر الرازي. وقال الكرخي والشافعي: هي إباحة المنافع لا تمليك المنعفة حتى لا يملك المستعير إجارة ما استعاره لو ملك المنافع لملك إجارتها، والأول أصح؛ لأن المستعير له أن يعير، ولو كانت إباحة لما ملك ذلك، وإنما لم يجزالإجارة؛ لأنها أقوى وألزم من العارة والشيء لا يستتبع مثله، فبالأحرى أن لا يستتبع الأقوى. كذا في عمدة القاري».
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی چیز کا مستعار لینا جائز ہے نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی سواری کی برکت سے سست رفتار گھوڑا آن کی آن میں تیز قدم ہو گیا۔ اور حضور ﷺ کا تنہا لشکر کی طرف چلا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس قدر جری اور شجیع تھے۔