Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Sales

Hadith 3122a

(اس باب میں ویران زمین کو آباد کرنے اور (کھیتوں اور مویشی کے لئے) پانی کی

In this book

Current reading

Sales

(اس باب میں ویران زمین کو آباد کرنے اور (کھیتوں اور مویشی کے لئے) پانی کی

Zujajat al-Masabih 3122aVolume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4106
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہما اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا (عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (بنی قریظہ کی) مھزور نامی وادی کی نہر کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ (اس نہر کے پانی کو بالائی علاقہ والا اپنی زمین کو اس طرح سیراب کرے کہ وہ) پانی کو روک رکھے یہاں تک کہ (پانی کی سطح) ٹخنوں برابر ہوجائے پھر بالائی علاقہ والا پانی کو زیریں علاقہ والے کیلئے چھوڑ دے (اور اگر نشیب میں اور بھی زمینات ہوں تو ہر ایک ٹخنوں برابر پانی روک کر اپنے بعد والے کیلئے چھوڑ دے) اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3639 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 2482 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Held until it reaches the ankles, etc.—Shafi’i stated in Al-Minhaj

(1) The statement: Held until it reaches the ankles, etc.—Shafi’i stated in Al-Minhaj: Permissible waters from valleys, springs, streams, and rains are equal for people. If people want to irrigate their land from it and it is insufficient, the upper land irrigates first, and each holds the water until it reaches the ankles. As stated in Al-Musawwa. In At-Ta’liq Al-Mumajjad: According to the Hanafis, there is no specific limit set by Sharia, but the matter is left to the partners’ opinions. This is the summary of what Muhammad (may Allah be pleased with him) said.

Note 1

قوله

(۱) قوله: إن يمسك حتى يبلغ الكعبين إلخ وعليه الشافعي في المنهاج»: والمياه المباحة من الأودية والعيون والسيول والأمطار يستوي الناس فيها، فإن أراد الناس سقي أرضهم منها فضاق، سقى الأعلى فالأعلى، وحبس كل واحد الماء حتى يبلغ الكعبين. قاله في المسوى». وقال في التعليق الممجد» وعند الحنفية ليس فيه حد معين شرعا، بل الأمر مفوض إلى آراء الشركاء، انتهى. هذا حاصل ما قال محمد رحمه الله .

Note 1

امام محمد رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں اس لئے مختلف زمین والوں میں صلح کا یہی طریقہ ہے کہ ہر علاقہ والا چشموں، نہروں اور نالوں کے پانی کو باہمی سمجھوتہ سے استعمال کرے کیونکہ اس قسم کے پانی سے استفادہ میں لوگ برابر کے شریک ہیں جیسا کہ تَعْلِیق مُمَجَّد میں مذکور ہے)۔