اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4111
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اپنی جائیداد کو اپنی حفاظت میں رکھا کرو اور اس کو خراب نہ کرو اس لئے کہ
جس نے کسی کو عمری دیدیا تو وہ اس کا مالک ہوگا زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی اور وہ
(جائیداد) اس کے وارثوں ہی کی ہوگی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 1625e (unverified) 50% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 3007 (unverified) 35% confidence
Mishkat (candidate) 3007
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: Hold onto, etc.—It means he informed them that the lifelong gift is a valid, complete gift, owned fully by the recipient and does not revert to the giver. If they act on this, whoever wishes may grant it knowingly, and whoever wishes may refrain, as they used to think it was like a loan that could be revoked. This is evidence for Abu Hanifah, Shafi’i, and their followers. As stated in Al-Marqah.
Note 1
(۱) قوله : أمسكوا إلخ يعني أعلمهم أن العمرى هبة صحيحة ماضية يمكلها الموهوب له ملكا تاما لا تعود إلى الواهب أبدا، وإذا عملوا ذلك، فمن شاء أعمر، ودخل فيها على بصيرة ومن شاء تركها؛ لأنهم كانوا يتوهمون أنها كالعارية يرجع فيها. وهذا دليل لأبي حنيفة والشافعي ومن تبعهما . كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عمری ہبہ کی صحیح صورت ہے اور جس کو عمری دیا جائے گا وہ شخص اس کا مالک ہوگا اور دینے والے کو واپس نہیں ملے گا اس لئے عمری دینے سے پہلے خوب غور کر لیا جائے مناسب سمجھیں تو عمری دیں ورنہ پھر اپنے لئے ہی روک رکھیں اور اس کی حفاظت کریں۔ (مرقات)۔