اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 3747
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے حدیبیہ
کے سال جب کہ کفار قریش نے عمرہ ادا کرنے سے روک دیا تھا تو خارج حرم اپنی اونٹنیوں کو ذبح کر دیا
تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان صحابہ کو حکم دیا کہ ان جانوروں کے بدلہ میں (جو خارج حرم
ذبح کئے گئے تھے) عمرۃ القضاء کے موقع پر اور جانور ذبح کر دیں۔
اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1864 (unverified) 70% confidence · Validation similarity: 0.771
- Candidate: Mishkat al-Masabih 2711 (unverified) 35% confidence
Mishkat (candidate) 2711
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(۱) قوله: أمر أصحابه أي بعض أصحابه، والمراد بهم الذين ذبحوا هداياهم خارج الحرم، يعني أمرهم بأن ينحروا بدل ما نحروا في السنة المتقدمة؛ لعدم إجزاء الأول بعدم وقوعه في الحرم. قال الطيبي: يستدل بهذا الحديث من يوجب القضاء على الحصر إذا حل حيث أحصر، ومن يذهب إلى أن دم الإحصار لا يذبح إلا في الحرم، فإنهم أمرهم بالإبدال؛ لأنهم نحروا هداياهم في الحديبية خارج الحرم، انتهى. وفيه دلالة على أنه ، ومن تبعه ذبحوا دم إحصارهم في أرض الحرم، وهو مذهب أبي حنيفة. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: صاحب مرقات نے طیبی کے حوالے سے لکھا ہے کہ جن حضرات کے پاس احصار کی وجہ سے قربانی دینا واجب ہے ان کا یہ قول ہے کہ دمِ احصار حدود حرم میں دیا جائے اسی وجہ سے عمرۃ القضاء کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے وقت جن صحابہ نے خارج حرم قربانی دی تھی ان کو بدلہ میں داخل حرم قربانی دینے کا حکم دیا اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جو صحابہ آپ کے قریب تھے انہوں نے داخل حرم قربانی دی تھی اس لئے ان حضرات نے اس موقع پر مکرر قربانی نہیں دی اور یہی مذہب حنفی ہے۔12