Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

Hadith 3157

(اس باب میں محرم کے حج یا عمرہ سے روک دیئے جانے پر جو پابندیاں اس پر عاید

In this book

Current reading

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے)

(اس باب میں محرم کے حج یا عمرہ سے روک دیئے جانے پر جو پابندیاں اس پر عاید

Zujajat al-Masabih 3157Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3748Noor 3749
حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (کسی شخص کے حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد) اس کا پیر ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے تو (اس کو چاہئے کہ مکہ معظمہ ہدی روانہ کر کے قربانی کے بعد) احرام کھول دے اور آئندہ سال اس (عمرہ یا) حج کی قضاء واجب ہوگی۔ حضرت عکرمہ (راوی حدیث) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں دریافت کیا تو ان دونوں حضرات نے فرمایا کہ حجاج بن عمرو انصاری نے صحیح روایت کی ہے۔ اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔ اور ابوداؤد کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ کوئی شخص (احرام باندھنے کے بعد) بیماری کی وجہ سے بھی (حج یا عمرہ سے) رک جائے تو اس کا بھی یہی حکم ہے (کہ وہ ہدی بھیج کر احرام کھول دے اور آئندہ سال قضاء کر لے) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔ اور دوسرے مخرجین نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ اور حاکم نے مستدرک میں اور ذہبی نے اپنی تلخیص میں کہا ہے کہ یہ حدیث امام بخاری کی شرائط کے مطابق حدیث صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1862 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 940 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3077 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

قوله

(۱) قوله: من كسر إلخ : اختلفوا في الإحصار، قال العراقيون: إنه عام من كونه بالعدو أو المرض أو انقطاع النفقة، وعند الحجازيين مختص بالعدو، ثم حكم الإحصار عندنا أن يرسل هديا ليذبح في الحرم، وليس وقت ذبحه موقتا إلا أنه يوقت بمن أرسل معه ليحل في ذلك الوقت المقدر بينهما، ويقضي عاما مقبلا وإن لم يهد، فلا يمكن له الخروج وإن كثرت الجنايات، وحكم الإحصار عند الحجازيين أن يذبح الدم، وأما الحصر بالمرض أو إنقطاع النفقة عندهم، فحكمه أنه لا يجوز له التحلل إلا إن كان اشترط عند الإحرام ووافقنا البخاري في أن الإحصار عام، وهذا الحديث لنا. كذا في العرف الشذي».

Note 1

ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ احصار یعنی حج یا عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد رک جانا، دشمن یا بیماری یا عدم نفقہ کی وجہ سے ہوتا ہے اور احصار کی صورت میں ضروری ہے کہ محصر مکہ معظمہ کو قربانی روانہ کرے کہ وہ حدود حرم میں ذبح کی جائے اور جس شخص کے ذریعہ قربانی بھیجی جا رہی ہو، اس سے قربانی کا وقت مقرر کر لے تاکہ اندازہ کے مطابق جب حرم میں قربانی دی جائے تو یہ احرام کھول سکے اور آئندہ سال اس حج کی قضاء کرے اور اگر ہدی کا روانہ کرنا ممکن نہ ہو تو وہ احرام نہیں کھول سکتا۔ اگرچہ کہ احرام میں رہنے سے اس پر کئی جنایات واجب ہو جائیں۔ یہ عرف شذی سے ماخوذ ہے۔12