اردو
معاذہ عدویہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے ام المؤمنین
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ مجھے حرم میں کسی کی ایک گم شدہ چیز ملی ہے اور میں اس کا
برابر اعلان کرتی رہی ہوں لیکن اب تک مجھے اس کا مالک نہیں ملا تو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ
عنہا نے فرمایا تم اس کو استعمال کرلو۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
اور بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: یہاں (مکہ مکرمہ) کی گھاس نہ اکھاڑی جائے، تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض
کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ”اِذْخِرْ“ (جو ایک قسم کی گھاس ہے) کی اجازت عطا فرمائیے،
چونکہ وہ سناروں کے پاس اور گھروں میں کام آتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اس کے کاٹنے کی اجازت ہے۔
بخاری اور مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہاں ”مکہ مکرمہ“ کا درخت نہ کاٹا جائے۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "Except idhkhir"—This exception was either preempted by Al-Abbas or revealed to the Prophet (ﷺ) to permit it. This is mentioned in (Al-‘Inayah).
Note 1
(۱) قوله : فقال: إلا الإذخر وتأويله أنه كان من قصده أن يستثنى إلا أن العباس سبقه بذلك أو كان أوحى الله إليه أن يرخص فيما يستثنيه العباس. كذا في «العناية».