اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4201
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت
کرتے ہیں کہ عاص بن وائل نے (جو کافر تھا) وصیت کی تھی کہ (اس کے مرنے کے بعد) ایک سو
غلام یا باندی آزاد کئے جائیں تو اس کے بیٹے ہشام رضی اللہ عنہ نے بقیہ پچاس غلاموں کو آزاد
کرنے کا ارادہ کیا پھر (اپنے دل میں یا اپنے بھائی یا دوستوں سے) کہا کہ میں (بقیہ پچاس
غلاموں کو آزاد نہیں کروں گا) یہاں تک کہ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
دریافت کروں (کہ یہ جائز ہے یا نہیں؟) پھر وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں
حاضر ہو کر عرض کیے یا رسول اللہ ﷺ! میرے باپ نے وصیت کی تھی کہ اس کی طرف سے (مرنے
کے بعد) سو غلام آزاد کر دیئے ہیں اور بقیہ پچاس غلام آزاد کرنا باقی ہے کیا میں اس کی طرف سے
(بقیہ پچاس غلاموں کو) آزاد کر دوں (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اور
اگر وہ مسلمان ہوتا اور تم اس کی طرف سے غلام آزاد کرتے یا خیرات کرتے یا اس کا حج بدل کرتے
تو (ان سب اعمال کا ثواب) اس کو پہنچتا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2883 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: If he had been a Muslim—The hadith indicates that if a disbeliever bequeaths a righteous act, it does not benefit him, as disbelief is a barrier. Likewise, righteous acts performed by his Muslim relatives, such as charity, Hajj, or freeing slaves without his bequest, do not benefit him, whether done by his child or another. This hadith does not indicate the invalidity of a disbeliever’s bequest, as there is no necessary link between the non-acceptance of the bequeathed righteous acts and the invalidity of the bequest in general. However, it is evidence that a disbeliever’s Muslim relatives are not obligated to execute his bequest of righteous acts. This is stated in Nayl Al-Awtar.
Note 1
(۱)قوله: لو كان مسلما إلخ والحديث يَدلُّ على أن الكافر إذا أوصى بقربة من القرب لم يلحقه ذلك؛ لأن الكفر مانع، وهكذا لا يلحقه ما فعله قرابته المسلمون من القرب، كالصدقة والحج والعتق من غير وصية منه، ولا فرق بين أن يكون الفاعل لذلك ولدًا أو غيره، وليس في هذا الحديث ما يَدلُّ على عدم صحة وصية الكافر؛ إذ لا ملازمة بين عدم قبول ما أوصى به من القرب وعدم صحة الوصية مطلقا . نعم، فيه دليل أنه لا يجب على قريب الكافر من المسلمين تنفيذ وصيته بالقرب. كذا في نيل الأوطار».
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کافر اگر کسی خیر خیرات کے کام کی وصیت کرے تو اس کو اس کار خیر کا ثواب نہیں ملے گا اس لئے کہ اس میں کفر مانع ہے، اسی طرح کسی کافر کے مسلم قرابتدار اس کی طرف سے صدقہ دیں یا حج بدل کریں یا غلام باندی آزاد کریں تو ان کاموں کا ثواب اس کافر کو نہیں ملے گا خواہ ایسے کام کافر کا مسلم لڑکا کرے یا کوئی اور، اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی کافر ایسی وصیت کرے تو اس کافر کے مسلمان قرابتداروں پر واجب نہیں کہ اس کی وصیت کو نافذ کریں۔ (نیل الاوطار سے ماخوذ ہے)۔