اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4216
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ دنیا شیریں ہے (کہ دلوں میں اس کی لذت اتر جاتی ہے اور
دیکھنے میں) تر و تازہ ہے (کہ آنکھوں میں اس کا منظر بیٹھ جاتا ہے) اور اللہ تعالیٰ تم کو (پچھلی
قوموں کا) جانشین بنانے والا ہے تا کہ (تم کو) دیکھے کہ تم کیسے کام کرو گے (اور سابقہ امتوں کے
حالات سے تم کیا عبرت لو گے) تو تم دنیا (کی برائیوں سے) بچو اور عورتوں (کے فتنوں) سے
(بھی) بچو اس لئے کہ بنی اسرائیل میں پہلا فتنہ جو کھڑا ہوا وہ عورتوں کی وجہ سے ہوا۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 2742 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں دنیا سے ڈرایا گیا ہے تو دنیا سے ڈرنا یہ ہے کہ دنیوی جاہ اور مال کے دھوکے سے احتیاط کی جائے اس لئے کہ جاہ و مال دونوں جلد ختم ہونے والے ہیں اور دنیا سے جو کچھ بھی حاصل ہو اس پر قناعت کرنی چاہئے تاکہ انجام بخیر ہو، کیونکہ حلال پر حساب ہے اور حرام پر عذاب۔ اس حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ بنی اسرائیل کا اولین فتنہ عورتوں سے ہوا اس بارے میں مرقات میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے اپنے بھتیجے یا اپنے چچا زاد بھائی سے خواہش کی کہ وہ اپنی بیٹی سے اس کا نکاح کردے اس نے انکار کردیا تو اس شخص نے نکاح کرنے کی خاطر اس کو قتل کردیا چنانچہ سورہ بقرہ کا جو قصہ ہے وہ اسی بارے میں ہے12