اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4403
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چار خصلتیں ایسی ہیں جس کسی کو دی گئیں تو اس کو دنیا اور آخرت کی بھلائی
دیدی گئی۔
(1) نعمتوں پر شکر کرنے والا دل (2) دکھ سکھ میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والی زبان (3) ایسا
بدن (جو دنیوی) مصیبتوں پر صبر کرنے والا ہو (4) اور ایسی بیوی جو نہ تو اپنے نفس میں خیانت
کرنے والی ہو اور نہ اپنے شوہر کے مال میں۔
(اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ خیانت نہ کرنے والی بیوی شوہر کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ ابن ماجہ کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ بیوی ایسی ہو کہ جو آخرت کے کام میں مدد کرے عورت کی مدد آخرت کے کام میں یہ ہے کہ وہ بیوی کی وجہ سے گناہوں اور بدنظری سے بچتا ہے اور گھر کے تمام کام عورت انجام دے لیتی ہے۔ جس کی وجہ سے مرد کو عبادت کی فرصت ملتی ہے۔ اگر بیوی نہ ہو تو گھر کے کاموں کی وجہ سے عبادت کی فرصت کم ملتی ہے۔ بعض عورتیں بڑی نیک اور عابدہ ہوتی ہیں ان کی وجہ سے مرد بھی زاہد اور عابد بن جاتا ہے۔ بعض زاہدائیں بھی ہوتی ہیں کہ اپنے شوہر کو تہجد کی نماز کے لئے جگاتی ہیں۔ (حاشیہ مشکوٰۃ)