اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4413
ایاس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ کی باندیوں (یعنی بیویوں) کو نہ مارو، حضرت عمر
رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کئے
کہ (آپ کے اس ارشاد سے) عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہوگئی ہیں (یہ سن کر) آپ نے
(شوہروں کو) اجازت دی کہ (وہ تادیباً اپنی بیویوں کو) مار سکتے ہیں (یہ حکم سن کر مردوں نے عورتوں
کو خوب مارا پیٹا) تو بہت سی عورتیں اپنے شوہروں کی شکایت کرنے کے لئے ازواج مطہرات کے
پاس جمع ہوئیں (اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں شکایت پیش کی) تو رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ازواج مطہرات کے پاس بہت ساری عورتیں اپنے شوہروں
(کے مارنے پر) شکایت کرنے کیلئے جمع ہوئیں ہیں (آگاہ ہو جاؤ) تم میں ایسے لوگ اچھے نہیں ہیں
(جو اپنی بیویوں کو مارتے پیٹتے ہیں)۔
(اس کی روایت ابوداؤد، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2146 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 1985 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: “Women have become bold, etc.”: The Sunnah’s alignment with the Quran on striking suggests the Prophet (ﷺ) prohibited striking before the verse’s revelation. When women became bold, he permitted it, and the Quran confirmed it. When they exceeded in striking, he clarified that while striking is permissible for bad conduct, patience and refraining from striking are better and more virtuous. This meaning is attributed to Ash-Shafi‘i, as in Al-Marqah.
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے شوہروں کو بیویوں کو مارنے سے روکا، غالباً حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ممانعت (سورۂ نساء، پ:5، آیت نمبر:34، ع:6) کی آیت جس میں ”وَاضْرِبُوْهُنَّ“ مذکور ہے اس کے نزول سے پہلے کا واقعہ ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت سے عورتیں دلیر ہو گئیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مارنے کی اجازت دیدی اور پھر قرآن میں بھی یہی حکم نازل ہوا لیکن شوہروں نے جب مار پیٹ میں شدت کی اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا اگرچہ بیویوں کو ان کی بداخلاقی کی وجہ سے مار پیٹ کی اجازت ہے مگر ان کی بداخلاقی پر صبر اور تحمل افضل اور احسن ہے۔ یہ تفصیل حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے جو مرقات میں مذکور ہے۔