اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4615
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مدبر غلام فروخت نہیں کیا جاسکتا2 اور نہ اس کو ہبہ کیا جاسکتا ہے۔ (دار
Emancipation
Chapter: Emancipation of a Shared Slave, Purchasing a Relative, and Emancipation During Illness
اردو
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: “A slave promised freedom is not sold, etc.”: For our Hanafi scholars, a slave promised freedom is of two types: absolute and conditional. The absolute is divided into two: one, where emancipation is tied to death without specifying time or condition, e.g., “If I die, you are free”; two, tied to death with a condition likely to occur, e.g., “If I die within a hundred years,” when he is eighty, which, though conditional, is effectively absolute, as he likely dies before that, equivalent to “If I die” without a condition. The ruling for an absolute promised slave is that he is not sold, gifted, employed, or hired out; a female promised slave may be married. Upon the master’s death, he is freed from one-third of his wealth, and works for two-thirds of his value if the master is poor with no other wealth, or for his entire value if indebted with a debt consuming all his wealth. A conditional promised slave differs from these two absolute forms, i.e., emancipation is tied to death with an unlikely condition, e.g., “If I die in this illness, he is free.” If the master dies with that condition, he is freed, like an absolute promised slave, from one-third, as the ruling of promised freedom applies at the last moment of life when that condition is met, making him absolute, so he cannot be sold. If he recovers from that illness and dies, he is not freed, as the condition lapsed. Scholars differed on whether a promised slave can be sold. Abu Hanifah, Malik, and a group from Kufa said the master cannot sell his promised slave. Shafi‘i said it is permissible to transfer ownership by sale, gift, or otherwise, based on Jabir’s narration that a man promised his slave freedom, then needed money, so the Prophet (ﷺ) took him and said: “Who will buy him from me?” Nu‘aym ibn Abdullah bought him for such-and-such and handed him over. Ahmad said the same, and Ahmad said sale is only permissible if the master has a debt. We have the hadith mentioned in the book. If you say: It is a rare hadith. I say: It is a well-known hadith used by Karkhi, Tahawi, Razi, and other imams as evidence. Tirmidhi narrated Jabir’s hadith, saying: “Some scholars among the Prophet’s Companions and others acted on this hadith, seeing no issue with selling a promised slave,” which is the view of Shafi‘i, Ahmad, and Ishaq. Some scholars among the Companions disliked selling a promised slave, which is the view of Sufyan Ath-Thawri, Malik, and Al-Awza‘i. Abu Al-Walid Al-Baji narrated that Umar (may Allah be pleased with him) prohibited the sale of a promised female slave in the presence of the best generations, a consensus among them that selling a promised slave is not permissible. What Shafi‘i narrated is a specific incident, and a verbal text is not contradicted by an action. Also, a specific incident cannot be used as evidence, as it may involve a conditionally promised slave. Further responses to Jabir’s hadith include: First, Ibn Battal said it is not evidence, as the hadith states the master had a debt, so the sale was for that. Second, it is a specific case open to interpretation, and some Malikis interpreted it as the master having no other wealth, so his action was voided. Third, it may involve selling his service, as hiring is called sale in Yemen’s dialect, as it involves selling service, supported by Ibn Hazm’s narration from Abu Ja‘far Muhammad ibn Ali, mursal from the Prophet (ﷺ), that he sold a promised slave’s service. Fourth, the master who sold the promised slave was foolish, so the Prophet (ﷺ) sold him himself, and selling a promised slave, for those who permit it, does not require the imam’s sale. Fifth, it may have been sold when a free indebted person could be sold, as narrated that he sold a free man for his debt, then abrogated by His saying: And if he is in hardship, then [grant] a respite until ease [Al-Baqarah: 280]. This is gathered from Umdat Al-Qari, Umdat Ar-Ri‘ayah, commentary of Al-Wiqayah, Al-Mirqat, and commentaries of Al-Kanz.
Note 1
قطنی) اور اس حدیث شریف سے امام کرخیؒ، امام طحاویؒ، امام رازیؒ اور دیگر مشائخ نے بھی استدلال کیا ہے، اور یہ سب علماء کرام علم حدیث کے ستون ہیں۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ ۔۔۔ اور یہی قول امام احمد بن حنبلؒ کا ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ سے ایک روایت ہے کہ اگر آقا کے ذمہ قرض ہو تو اس وقت آقا اس کو بیچ سکتا ہے۔ اور ہماری دلیل ابن عمرؓ کی یہ حدیث شریف ہے جس کا کتاب میں اوپر ذکر آیا ہے اور اگر تم یہ کہو کہ حدیث غریب ہے تو اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ یہ حدیث مشہور ہے اسی وجہ سے اس حدیث سے امام کرخیؒ، امام طحاویؒ، امام رازیؒ اور ان کے سوا دیگر ائمہ نے استدلال کیا ہے۔ امام ترمذیؒ نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کو روایت کرنے کے بعد فرمایا ہے: اس حدیث پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ اور دوسرے اہل علم کا عمل ہے کہ وہ مدبر کی بیع میں کوئی حرج نہیں سمجھتے اور یہی قول امام شافعیؒ، امام احمدؒ اور امام اسحاق کا ہے۔ اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہؓ کی ایک جماعت نے مدبر کی بیع کو مکروہ قرار دیا ہے۔ اور یہ قول حضرت سفیان ثوری، امام مالک اور امام اوزاعی رحمہم اللہ کا ہے۔ اور حضرت ابو الولید باجیؒ نے روایت کی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خیر القرون کی ایک عظیم جماعت کی موجودگی میں جس میں کثرت سے لوگ شریک تھے مدبر کی بیع کو رد کر دیا۔ اور اس طرح اس پر ان سب کا اجماع ہو گیا کہ مدبر کی بیع جائز نہیں۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے جو روایت کی ہے وہ حکایت حال (واقعہ کا بیان) ہے۔ اور فعلی حدیث ہے جو قولی حدیث کے معارض نہیں ہو سکتی کیونکہ اس واقعہ میں اس بات کا احتمال ہے کہ وہ غلام مدبر مقید ہو۔ اس کے علاوہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کا جواب اور کئی طریقوں سے دیا گیا ہے۔ 1۔ ایک توجیہ وہ ہے جو ابن بطالؒ نے کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حجت نہیں ہے کیونکہ اس حدیث شریف میں ہے کہ اس غلام کے آقا پر قرض تھا اور اس غلام کو بیچنا اس قرض کی وجہ سے ہوا ہے۔ 2۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ یہ ایک مخصوص قضیہ ہے اور اس میں تاویل کا احتمال ہے۔ بعض مالکی حضرات نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ آقا کے پاس اس غلام کے سوا کوئی مال نہیں تھا اس لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آقا کے اس تصرف کو رد فرما دیا۔ 3۔ اس میں اس بات کا بھی احتمال ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کی منفعت کو فروخت فرمایا ہے یعنی اس کو مزدوری پر لگایا اور اجارہ (یعنی مزدوری پر لگانے) کو اہل یمن کی لغت میں ”بیع“ کہا جاتا ہے کیونکہ اس اجارہ میں منفعت فروخت کی۔ اس کی تائید ابن حزم کی بیان کردہ اس روایت سے ہوتی ہے کہ ابو جعفر محمد بن علی رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کرتے ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر کی قیمت کو فروخت فرمایا ہے۔۔۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔
Note 2
۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔ عام طور پر وقوع پذیر ہوتی ہے مثلاً آقا کا یہ کہنا جب کہ وہ اسّی (80) سال کی عمر میں ہے ”اگر میں سو سال کی عمر میں انتقال کر جاؤں“ تو یہ صورت بظاہر مقید ہے لیکن معنیً مطلق ہے کیونکہ عموماً آدمی اس مدت سے پہلے ہی انتقال کر جاتا ہے ”پس اس کا یہ کہنا ”میں 100 سو سال میں انتقال کر جاؤں“ تو یہ 100 سو سال کی قید کا ذکر کئے بغیر ”میں انتقال کر جاؤں) کہنے کے حکم میں ہے۔ لہذا یہ مدبر مطلق کے حکم میں ہے۔ مدبر مطلق کا حکم: اس کو نہ بیچا جا سکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے البتہ اس سے خدمت لی جا سکتی ہے اور مزدوری پر لگایا جا سکتا ہے۔ اور مدبرہ باندی سے مباشرت بھی کی جا سکتی ہے اور نکاح بھی کیا جا سکتا ہے۔ اگر آقا اپنے انتقال کے وقت تنگ دست تھا اور اس کے مدبر کے سوا اس کے پاس دوسرا کوئی مال نہ تھا تو ایسی صورت میں اس کے مال کے ایک تہائی حصے سے مدبر آزاد ہوگا اور باقی دو تہائی کے لئے اس سے محنت کرائی جائے گی اور اگر آقا کے ذمہ ایسا قرض تھا کہ اس کا سارا مال اس کی ادائی میں ختم ہو جاتا ہے تو ایسی صورت میں مدبر اپنی تمام قیمت کی ادائی کے لئے محنت کرے گا۔ مدبر مقید کی صورت مدبر مطلق کی مذکورہ دو صورتوں کے برخلاف ہے یعنی غلام کی آزادی کو اپنی ایسی موت کے ساتھ مقید کیا جائے جو عادۃً یعنی اکثر وقوع پذیر نہیں ہوتی مثلاً آقا غلام کی تدبیر (آزادی) کو اپنے انتقال کی کسی خاص صفت کے ساتھ معلق کرے مثلاً یوں کہے ”اگر میں اس مرض میں انتقال کر جاؤں تو تجھے آزادی ہے“ پھر اگر آقا کا انتقال اسی صورت پر ہوا جس کو اس نے ذکر کیا تھا تو وہ مدبر مطلق کی طرح سے آزاد ہو جائے گا یعنی ایک تہائی حصہ میں آزاد ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں چونکہ وہ مدبر مطلق ہو جائے گا اس کو بیچنا جائز نہیں ہوگا۔ اور اگر آقا اس مرض سے اچھا ہو جائے پھر اس کے بعد انتقال کر جائے تو وہ (غلام) آزاد نہیں ہوگا کیونکہ جس شرط پر معلق کیا تھا وہ باقی نہیں رہی بلکہ فوت ہوگئی۔ مدبر کے بیچے جانے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ اور امام مالکؒ اور اہل کوفہ کی ایک جماعت کے پاس آقا کو اپنے مدبر غلام کے بیچنے کا حق نہیں ہے۔ اور امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ آقا کے لئے مدبر غلام کو بیچنا اور ہبہ وغیرہ کرنا، جائز ہے۔ ان کی دلیل حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک صحابیؓ نے اپنے غلام کو مدبر کرنے کے بعد نادار کیا پھر وہ محتاج ہوگئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس غلام کو لے کر فرمایا اس کو مجھ سے کون خریدے گا تو نعیم بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو اتنے اتنے (روپیوں کی مقررہ مقدار) میں خرید لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غلام ان کے حوالے کر دیا۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔