اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 4627
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قسم
کھاتے تو اکثر فرماتے ”لا و مقلب القلوب“ 1 (بخاری)
Qur’an-related source paragraphs
And the statement of Allah, the Mighty, the Exalted: Allah does not hold you accountable for the unintentional in your oaths, but He holds you accountable for what your hearts have earned. And Allah is Forgiving, Forbearing (Al-Baqarah: 225).
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 6628 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 7391 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: “He swore: No, by the One who turns the hearts” indicates that swearing by Allah, the Exalted, or by one of His names, even if it is a shared name that has become customary to swear by, is permissible according to the school of thought. This includes names like the Most Merciful, the Compassionate, the Forbearing, the All-Knowing, the Master of the Day of Judgment, the Pursuer, the Victor, and the Truth, whether definite or indefinite. In “Al-Mujtaba,” it is stated: If one intends by shared names something other than an oath, such as a religion or an attribute customarily sworn by among His attributes, the Exalted—whether an attribute of essence that has no opposite, like the might of Allah, His majesty, grandeur, dominion, power, greatness, or ability, or an attribute of action that can have an opposite, like anger or pleasure—then oaths are based on custom. What is customarily sworn by is an oath, and what is not is not an oath. One does not swear by an attribute not customarily sworn by among His attributes, the Exalted, such as His mercy, knowledge, pleasure, anger, wrath, punishment, curse, law, religion, limits, description, or “Glory be to Allah,” and the like, due to the absence of custom. This applies specifically to attributes, unlike names, where custom is not considered, as previously mentioned. This is taken from “Ad-Durr al-Mukhtar” and “Radd al-Muhtar.” In “Rahmat al-Ummah,” it is stated: They agreed that an oath by Allah is binding, and by all His beautiful names, such as the Most Merciful, the Compassionate, the Living, and by all attributes of His essence, such as the might of Allah and His majesty, except that Abu Hanifah excluded the knowledge of Allah, not considering it an oath. In “Al-Inayah,” it is stated: The name here refers to a word indicating the essence described by an attribute, such as the Most Merciful and the Compassionate, and the attribute refers to verbal nouns derived from describing Allah with names of His actions, such as mercy, knowledge, and might. In the commentary on “Al-Kanz” by Zayla’i and “Burhan Sharh Mawahib ar-Rahman,” it is stated: The scholars of Iraq mentioned that swearing by attributes of essence is an oath, but not by attributes of action. The scholars of Transoxiana stated that custom is considered, so any attribute customarily sworn by, whether an attribute of essence like ability or an attribute of action like creation and provision, is an oath. What is not customarily sworn by, whether an attribute of essence or action, is not an oath. This is the correct view. The conclusion is that swearing by Allah’s names is undoubtedly an oath, while swearing by His attributes depends on custom, and swearing by anything other than Allah is absolutely not an oath.
Note 1
1 (قولہ: یحلف لا و مقلب القلوب الخ (قسم کھاتے تو اکثر فرماتے ”لا و مقلب القلوب“، نہیں، دلوں کو پھیرنے والے کی قسم) اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مذہب مختار کی بناء پر اللہ کی اور اس کے ناموں میں سے کسی نام کی، اگرچہ کہ وہ مشترک ہو، اور عرف میں اس کی قسم کھائی جاتی ہو یا نہ ہو، جیسے رحمن و رحیم، حلیم و علیم، مالک یوم الدین، الطالب الغالب اور الحق، جو الف لام کے ساتھ ہو، بغیر الف لام کے نہیں ہے قسم ہو جاتی ہے۔ اور کتاب المجتبیٰ میں ہے اگر اسماء مشترکہ سے قسم سے ہٹ کر کسی چیز کی نیت کرے تو دیانۃً قبول کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے صفات میں سے کسی ایسی صفت سے قسم کھائے کہ جس کی عام طور پر قسم کھائی جاتی ہے اور اس کی صفت ذاتی ہو یعنی اس کی ضد اس میں نہیں پائی جاتی جیسے اللہ کی عزت، جلال، کبریائی، ملکوت، جبروت، عظمت اور قدرت کی قسم کھائے تو بھی قسم ہو جاتی ہے۔ یا اس کی فعلی صفت کی (یعنی جس کی ضد اس میں پائی جاتی ہے) قسم کھائے جیسے غضب اور رضا کی، تو ایسی صورت میں قسموں کا دارومدار عرف پر ہے اور ان صفات میں جو قسموں کے لئے معروف ہیں تو ان کی قسم ہوتی ہے۔ اور جو اس کے لئے معروف نہیں ہیں ان کی قسم نہیں ہوتی۔ اور اللہ تعالیٰ کے صفات میں سے ایسی صفت کی قسم نہیں ہوتی جو قسم کے لئے معروف نہیں ہے یعنی عرف میں ان کی قسم نہیں کھائی جاتی جیسے اللہ کی رحمت اس کا علم، اس کی رضا، اس کا غضب، اس کی ناراضگی، اس کا عذاب، اس کی لعنت، اس کی شریعت، اس کا دین، اس کے حدود، اس کی صفت، سبحان اللہ اور اس جیسے دیگر صفات کی قسم نہیں ہوگی۔ یہ حکم صفات کے ساتھ خاص ہے اسماء ذات کے ساتھ نہیں کیونکہ اسماء ذات میں عرف کا اعتبار نہیں ہوتا جیسا کہ اس کا بیان گزر چکا ہے۔ (درمختار، ردالمحتار) کتاب رحمۃ الامہ میں ہے کہ علماء کا اتفاق ہے اس بات پر کہ اسم جلالہ سے اور اس کے تمام اسماء حسنیٰ سے قسم منعقد ہو جاتی ہے جیسے الرحمن، الرحیم، الحی اور اس کے تمام صفات ذاتیہ سے بھی قسم منعقد ہو جاتی ہے۔ جیسے ”اللہ تعالیٰ کی عزت اور اس کے جلال کی قسم“، لیکن امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ تعالیٰ کے علم کو مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ آپ اس کو قسم نہیں سمجھتے (انتهى) اور کتاب عنایہ میں ہے۔ یہاں اللہ کے اسم سے مراد وہ لفظ ہے جو ایسی ذات پر دلالت کرتا ہو جو کسی صفت سے متصف ہو۔ جیسے الرحمن، الرحیم۔ اور صفت سے مراد وہ مصادر ہیں جو اسماء صفاتیہ کو اللہ تعالیٰ کی ذات سے متصف کرنے پر حاصل ہوتے ہیں جیسے رحمت، علم، عزت وغیرہ ۔۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ امام زیلعی کی شرح کنز میں اور مواہب الرحمن کی شرح ”برہان“ میں ہے کہ علماء عراق نے بیان کیا ہے کہ صفات ذاتیہ کی قسم ہوتی ہے اور صفات فعلیہ کی نہیں۔ علماء ماوراء النہر نے بیان کیا ہے کہ قسم میں عرف کا اعتبار ہے۔ جس صفت سے عام طور پر قسم کھائی جاتی ہو خواہ صفت ذاتی ہو جیسے قدرت، خواہ صفت فعلی ہو جیسے پیدا کرنا اور رزق دینا، یہ قسم ہوں گے اور عرف میں جن سے قسم کھائی نہیں جاتی خواہ وہ صفت ذاتی ہو یعنی اس سے قسم مقصود نہیں ہوتی اور یہی صحیح ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں کے ساتھ قسم بلا شبہ قسم ہے اور اس کے صفات کی قسم کھانے میں عرف کا اعتبار ہے اور غیر اللہ کی قسم مطلقاً قسم نہیں ہے۔ 12 1 (قولہ: واستغفر الله (اور میں اللہ سے مزید عظمت کی سرفرازی مانگتا ہوں) یہ بظاہر قسم نہیں ہے لیکن چونکہ آپ نے کلام کو تاکید کے ساتھ فرمایا ہے اسی لئے یہ قسم کی صورت ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ”واستغفر الله“ میں واؤ قسم کا ہو اور قسم بہ (جس کی قسم کھائی جا رہی ہو) محذوف ہو یعنی لا والله (نہیں اللہ کی قسم) پھر استغفر الله سے کلام کی ابتداء ہو۔ استغفر الله سے مراد اگر معاملہ اس کے خلاف ہے تو میں مغفرت چاہتا ہوں یا استغفر الله کے بعد ”من الحلف“ محذوف ہو یعنی ”قسم سے میں اللہ کی جناب میں استغفار کرتا ہوں“ کیونکہ قسم نہ کھانا ہی افضل ہے سوائے اس کی ضرورت ہو۔ کیونکہ یہ قسم اصل میں عرضہ (نشانہ) ہے اور عرضہ سے منع کیا گیا اسی لئے بعض حضرات قسم کھانے سے رکتے ہیں اگرچہ وہ سچے ہوں اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قسم ثابت ہے، وہ صرف ضرورت کے لئے ہے یعنی حکم کو موکد کرنے کے لئے یا بیان جواز کی غرض سے ہے اسی لئے کہا گیا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قسم کا ارادہ فرمایا تو قسم کے بجائے ”لا واستغفر الله“ فرمایا، قسم نہیں کھائی۔ (مرقات ملخصاً) 1؎ (قولہ : ان الله ينهاكم ان تحلفوا بآبائكم الخ (اللہ تعالیٰ تم کو اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے) حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ موطا میں فرماتے ہیں ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کسی آدمی کے لئے اپنے باپ کی قسم کھانا مناسب نہیں جو آدمی قسم کھانا چاہتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھائے اور قسم کو پوری کرے یا پھر قسم کھانے سے خاموش رہے اور مرقات میں ہے کہ جس قسم سے منع کیا گیا ہے وہ غیر اللہ کی قسم ہے اور باپ دادا کا خصوصیت سے ذکر اس لئے ہے کہ باپ دادا کی قسم کھانا اولاد کی عادت ہوتی ہے ہدایہ میں ہے جو کوئی آدمی غیر اللہ جیسے نبی اور کعبہ وغیرہ کی قسم کھائے گا تو وہ قسم کھانے والا آثم نہیں ہوگا کیونکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”من كان منكم حالفا فليحلف بالله او ليذر“ (تم میں سے جو قسم کھائے وہ اللہ کی قسم کھائے یا چھوڑ دے) اسی طرح سے جب قرآن مجید کی قسم کھائے (تو قسم کھانے والا آثم نہیں ہوگا) کیونکہ یہ قسم متعارف نہیں ہے۔ (آثمی)۔ صاحب ہدایہ کے قول سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی قسم غیر اللہ کی قسم کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کی نوعیت صفات کی قسم کی ہے کیونکہ اس کی علت قسم کے لئے غیر معروف ہونا بیان کیا گیا ہے اور اگر یہ پہلی قسم سے ہوتی تو اس کی علت مذکورہ ممانعت یا اس کے سوا کوئی اور وجہ ہوتی۔ کیونکہ عرف کا اعتبار صرف صفات مشترکہ میں ہوتا ہے اور دوسروں میں نہیں۔ علامہ کمال نے فرمایا ان دنوں (یعنی موجودہ دور میں) یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ قرآن کی قسم متعارف ہے اس لئے قرآن کی قسم کھانا قسم ہے۔ (درمختار، ردالمحتار)۔ اور نیل الاوطار میں ہے کہ اس باب کی احادیث شریفہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ غیر اللہ کی قسم منعقد نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس سے منع کیا جانا نہی عنہ (جس سے روکا گیا ہے) کے فساد پر دلالت کرتا ہے اور جمہور کا یہی مذہب ہے۔ بعض حنابلہ نے فرمایا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھانے سے بھی قسم منعقد ہو جاتی ہے اور کفارہ بھی واجب ہوتا ہے (ردالمحتار میں اسی طرح ہے) 2؎ (قولہ : لا تحلفوا بالطواغى الخ (تم نہ بتوں کی قسم کھاؤ اور نہ اپنے باپ دادا کی) عرب اپنی جاہلیت کے زمانہ میں بتوں کی اور اپنے باپ دادا کی قسم کھاتے تھے تو ان کو اس سے منع کیا گیا تاکہ وہ اپنی گفتگو اور محاورات میں متنبہ رہیں کہ کہیں ان کی عادت کے مطابق ان کی زبان اس میں سبقت نہ کر جائے۔ (مرقات)۔ 1؎(قولہ: من حلف بالا مانة الخ (جو کوئی امانت کی قسم کھائے) یہاں امانت کی نسبت اللہ کی طرف نہیں ہے بلکہ مطلق ہے۔ فلیس منا (وہ ہم میں سے نہیں) اس میں کراہت معلوم ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے صفات کی قسم کھانے کی اجازت ہے اور امانت، اللہ تعالیٰ کے صفات میں سے نہیں ہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے فرض کردہ امور میں سے ہے اور اس سے (یعنی اللہ کے فرائض و احکام کی قسم سے) منع کیا گیا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات کے ساتھ برابری معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے وعید بھی مراد ہو کیونکہ اس نے غیر اللہ کی قسم کھائی ہے۔ اور بالاتفاق اس سے کفارہ متعلق نہیں ہوسکتا۔ اور ”امانة الله“ (امانت کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرکے) کی قسم کھانے میں اختلاف ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ قسم نہیں ہے اور اس میں کفارہ لازم نہیں آئے گا۔ اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ یہ قسم ہے اس کو توڑنے سے کفارہ لازم آئے گا۔ اور کتاب البدائع میں ہے کہ ”امانة الله“ کہہ کر قسم کھانے میں ہمارے پاس روایات مختلف ہیں۔ ”کتاب الاصل“ میں ہے کہ یہ قسم ہے۔ اور ابن سماعۃ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ علیہ سے روایت کرتے ہیں کہ یہ قسم نہیں ہوگی۔ امام طحاوی نے ہمارے اصحاب سے روایت کی ہے کہ یہ قسم نہیں ہے اور امام طحاوی کے مذکورہ بیان کی وجہ یہ ہے کہ ”امانة الله“ اللہ تعالیٰ کے فرض کردہ امور ہیں جن کے ذریعہ بندے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَّحْمِلْنَهَا“۔ (33۔ سورۃ الاحزاب، آیت نمبر:72)”بیشک ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا“ اس لئے کہ (امانة اللہ کی قسم کھانا)۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ اللہ بزرگ و برتر کے نام سے ہٹ کر بے ہنر قسم نہیں کھلائے گی اور کتاب الاصل میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ امانت جس کی نسبت اللہ کی طرف کی جاتی ہے قسم کھاتے وقت تو اس سے اللہ تعالیٰ کی صفت مراد ہوتی ہے کہ ہم نہیں دیکھتے کہ ”الامین“ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہے اور یہ امانت سے مشتق ہے۔ خصوصاً قسم کے موقع پر جب مطلق ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی صفت مراد ہوتی ہے۔ ردالمحتار اور خانیہ میں ہے کہ امانة الله قسم ہے اور امام طحاوی نے ذکر کیا ہے یہ قسم نہیں ہوگی اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی ایک روایت ایسی ہی ہے اور فتح القدیر میں ہے کہ ہمارے پاس اور امام مالک اور امام احمد رحمہما اللہ کے پاس یہ قسم ہے اور شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس نیت کا اعتبار ہے کیونکہ امانت کی تفسیر عبادات سے کی گئی ہے، ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ حرف قسم کے بعد جب امانت کا ذکر ہو تو قسم کا مراد لیا جانا ہی غالب ہے اس لئے ضروری ہے کہ عام عادت کی بناء پر اس کو نیت پر موقوف نہ رکھا جائے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خانیہ میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ قابل اعتماد اور صحیح ہے۔ 1؎ (قوله: من حلف بملة غير الاسلام الخ (جو کوئی اسلام کے سوا کسی مذہب کی قسم کھائے) اس عبارت میں کلمہ ”غير الاسلام“ ”ملت کی صفت ہے مثلاً وہ کہے کہ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ یہودی یا نصرانی یا اسلام سے بری ہے۔ کیا اس کا کلام شریعت کی اصطلاح میں قسم ہے اور کیا ایسی قسم پوری نہ کرنے سے کفارہ لازم آتا ہے؟! امام نخعی، امام اوزاعی، امام ثوری اور امام ابو حنیفہ کے اصحاب، امام احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کے پاس یہ قسم ہے اور اس کو توڑنے سے کفارہ واجب ہوتا ہے۔ امام مالک، امام شافعی اور ابو عبید نے فرمایا ہے کہ یہ قسم نہیں ہے اور اس میں کفارہ بھی نہیں ہے۔ لیکن اس طرح کہنے والا گنہگار ہے چاہے اس نے سچ کہا ہو یا جھوٹ۔ اور یہ حضرات رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے استدلال کرتے ہیں کہ جو کوئی لات و عزیٰ کی قسم کھائے اس کو لا اله الا الله (کلمہ شہادت پڑھنا چاہئے)۔ اس حدیث شریف میں کفارہ کا ذکر نہیں ہے، ہم یہ کہیں گے کہ اس میں کفارہ کا ذکر نہ کرنے سے کفارہ واجب ہونے کی نفی لازم نہیں آتی۔ ہماری دلیل مذکورہ حدیث ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ظہار کرنے والوں پر کفارہ واجب فرمایا ہے۔ اور یہ (ظہار) ناپسندیدہ بات اور غلط ہے اور ان اشیاء کی قسم بھی ناپسندیدہ اور غلط ہے۔ صاحب ہدایہ نے فرمایا کہ ہم نے یہ بات حلال کو حرام کرنے پر قیاس کرتے ہوئے کہی ہے۔ کیونکہ اس کا قسم ہونا نص سے ثابت ہے اور وہ اس لئے ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام حضرت ماریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنے اوپر حرام کر لئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ” يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ“۔ (66۔ سورۃ التحریم، آیت نمبر:1) ”اے نبی جو چیز اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے حلال کی ہے اسے اپنے اوپر کیوں حرام کرتے ہو۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ارشاد ہے: ”قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ“۔ ۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔(66 التحریم، آیت نمبر:2) بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر فرمایا ہے۔ اور اس کی تائید علامہ محمد احسن صدیقی صاحب نانوتوی کے قول سے بھی ہوتی ہے۔ جس کو آپ نے کنز کے حاشیہ میں مختلف شروح کے حوالوں سے فرمایا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ارشاد فرمایا جو کوئی آدمی یہودیت کی قسم کھائے تو یہ قسم میں شمار ہے یہاں منتقی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ جس کو انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ اسی لئے درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ آدمی کا اس طرح کہنا بھی قسم میں شمار ہوتا ہے۔ ”اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ یہودی ہے یا نصرانی ہے“ یا یہ کہے کہ ”میرے نصرانی ہو جانے یا کافروں کے ساتھ شریک ہونے پر تم گواہ رہو“ یا یہ کہے کہ (اگر وہ ایسا کرے گا تو) وہ کافر ہے ایسی صورت میں اگر وہ قسم توڑے گا تو اس مسئلہ میں حلال کو حرام کرنے کے مسئلہ پر قیاس کرتے ہوئے کفارہ لازم آئے گا کیونکہ جب اس نے شرط کو کفر کی علامت قرار دیا اور اس کے قطعی طور متحقق ہونے کا عقیدہ رکھا ہے۔ اور اس کے متحقق ہونے کا حکم لگانا کسی دوسری وجہ سے بھی ممکن ہے اس لئے ہم اس کو قسم قرار دیتے ہیں۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ یہ مستقبل کی بات ہو۔ اب رہا ماضی کا صیغہ جیسے اگر میں ایسا کیا تھا تو کافر ہوں، یہودی ہوں اور اسی طرح سے حال کا صیغہ کہہ جاتے ہوئے بھی کہ ایسا نہیں ہوا ہے (قسم کھا رہا ہے) تو وہ ”یمین غموس“ ہے اس میں کفارہ نہیں ہے صرف توبہ ہے البتہ اس کے کفر کے بارے میں اختلاف ہے لیکن قول اصح یہ ہے کہ قسم کھانے والا کافر نہیں ہوتا خواہ فعل ماضی کے ساتھ اس کو متعلق کیا ہو یا مستقبل کے ساتھ بشرطیکہ اس کے اعتقاد میں یہ قسم ہو اور اگر وہ (قسم کھانے والا) ناواقف ہو یا وہ یہ سمجھتا ہے یمین غموس میں یا مستقبل میں شرط کے پائے جانے کی صورت میں کافر ہو جاتا ہے۔ تو ایسی دونوں صورتوں میں یعنی یمین غموس اور یمین منعقدہ میں کافر ہو جائے گا۔ کیونکہ وہ کفر سے راضی ہے۔ یمین غموس میں اسی وقت کافر ہو جائے گا اور یمین منعقدہ میں شرط پر عمل کرنے کی صورت میں کافر ہو جائے گا۔ جیسا کہ البحر الرائق میں اس کی صراحت ہے۔ اور جان لو اس بات کو کہ صحیحین میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”جو کوئی آدمی اسلام کے سوا کسی مذہب کی جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے گا تو وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے کہا“ ”ظاہر ہے کہ یہ ارشاد غالب احوال کی بناء پر ہے کیونکہ عموماً جو کوئی اس طرح کی قسمیں کھاتا ہے تو وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اس طرح کی قسم توڑنے پر کفر لازم آ جاتا ہے۔ اگر یہ بات ہے تو ٹھیک ہے ورنہ جو لوگ اس طرح کہنے پر مطلق کفر کے قائل ہیں، یہ حدیث شریف ان کی دلیل ہے۔ 1(قولہ: ومن قتل نفسه بحديدة الخ (جو آدمی اپنے آپ کو کسی دھاری دار چیز سے ہلاک یعنی خودکشی کر لے) فقہاء کرام اور اہل سنت و جماعت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو کوئی آدمی ۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقی حاشیہ۔۔۔ اپنے آپ کو قتل کرے گا یعنی خودکشی کرے گا) تو اس کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج نہیں ہوگا۔ حضرت امام اعظم اور امام محمد رحمہا اللہ نے فرمایا کہ اس کو غسل دیا جائے اور اس پر نماز پڑھی جائے گی اور اسی پر فتوی ہے اگرچہ اس کا گناہ (خودکشی کا) کسی دوسرے کو قتل کرنے سے بڑھ کر ہے۔ حضرت کمالؒ نے حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو ترجیح دی ہے کہ اس کو غسل دیا جائے گا لیکن اس پر نماز (جنازہ) نہیں پڑھی جائے گی کیونکہ مسلم شریف میں ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں ایک ایسے شخص (جنازہ) کو لایا گیا جس نے خودکشی کرلی تھی آپ ﷺ نے اس پر نماز نہیں پڑھی۔ بحر الرائق میں ہے کہ (ان اقوال کی) تصحیح میں اختلاف ہے لیکن امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو حدیث شریف کی تائید حاصل ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ حدیث شریف میں اس پر کوئی دلالت نہیں ہے کیونکہ اس حدیث شریف میں صرف یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس پر نماز نہیں پڑھی۔ ظاہر یہ ہے کہ آپ ﷺ نے دوسروں کو اس جیسے (برے) عمل سے روکنے کے لئے نماز نہیں پڑھی جیسا کہ آپ ﷺ قرض دار پر نماز پڑھنے سے بھی رک گئے تھے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ صحابہ میں سے کسی نے ان پر نماز نہیں پڑھی کیونکہ آپ ﷺ کی اور دوسروں کی نماز کے درمیان میں کوئی برابری نہیں ہے (بہت بڑا فرق ہے)۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ”إِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ“ (9۔ التوبۃ؛ آیت نمبر:103) ”آپ ﷺ کی دعا ان کے لئے باعث سکون ہے“ پھر (یہ بھی) یاد رکھو کہ یہ سب اس آدمی کے بارے میں ہے جو اپنے آپ کو عمداً قتل کرے۔ اب رہا یہ کہ اگر اس کا یہ عمل غلطی سے ہو تو اس پر نماز پڑھی جائے گی۔ اس میں (کسی کو) اختلاف نہیں ہے جیسا کہ اس کی صراحت کفایہ اور اس کے سوا عمدۃ القاری، درمختار اور ردالمحتار میں ہے۔ 1؎ (قولہ: من قال اني بريء من الاسلام الخ ابن ہمامؒ نے فرمایا کہ اس کا کہنا وهو بريء من الاسلام ان فعل كذا ہے (اگر وہ ایسا کرے گا تو اسلام سے بری ہے) اور یہ ہمارے پاس قسم ہے اور اسی طرح هو بريء من الصلوة والصوم (وہ نماز سے بری ہے، روزہ سے بری ہے) کہنا بھی قسم ہے۔ (مرقات) 1) قوله: و ليس على ابن آدم نذر فيما لا يملك (اور انسان پر جس چیز کا وہ مالک نہیں ہے اس میں نذر متحقق نہیں ہوتی) اس کی تحقیق ان شاءاللہ باب فی النذر یعنی منتوں کے باب میں آئے گی۔ 1(قولہ: فلیتصدق (اس کو صدقہ کرنا چاہئے) اسی صورت میں صدقہ کا حکم فقہاء کے پاس استحباب پر محمول ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ صدقہ کرنے کا ارادہ کرنے والا جب صدقہ نہ کرے تو اس پر صدقہ وغیرہ کی کوئی چیز واجب نہیں بلکہ اس کے لئے (اس کی نیت کی وجہ سے) نیکی لکھ دی جائے گی۔ (عمدۃ القاری) 2(قولہ: فرأى غيرها خيرا منها: الخ (کوئی دوسری، بہتر چیز دیکھے) صاحب ہدایہ نے فرمایا ہے اگر کوئی آدمی کسی گناہ پر قسم کھائے مثلاً نماز نہیں پڑھے گا یا اپنے والد سے بات نہیں کرے گا یا فلاں کو قتل کرے گا تو ایسے آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی قسم توڑ دے۔ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایسے آدمی پر قسم توڑنا اور کفارہ دینا واجب ہے اور درالمختار میں ہے کہ یہ بات بعید نہیں کہ فقہاء کے قول ”اولیٰ“ سے مراد وجوب ہی ہو۔ اور کتاب ”مجمع“ میں اپنے قول ”ترجح البر کو“ (یعنی نیکی کو اختیار کرنا قابل ترجیح ہے) بیان کیا ہے۔ اور صاحب ہدایہ صاحب کنز اور ان کے علاوہ دیگر علماء کا قول بھی اسی کے قریب ہے اور جو کوئی آدمی کسی گناہ پر قسم کھائے تو اس کو قسم توڑنا چاہئے اور بلا شبہ قسم توڑنا واجب ہے جیسا کہ تم کو معلوم ہوا کیونکہ لفظ ”ینبغی“ سے ان علماء نے وجوب مراد لیا ہے باوجودیکہ اس کا اکثر استعمال غیر وجوب میں ہے۔ یہ ایسا ہے جیسا کہ تم کہتے ہو مسلمان کے لئے نماز پڑھنا زیادہ۔۔۔ بقیہ آگے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔مناسب ہے (یعنی اس پر نماز واجب ہے)۔ 3(قولہ: فليأت الذى هو خير وليكفر عن يمينه (جو چیز بہتر ہے اس کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے) یہ بات آپ کو معلوم ہونی چاہئے کہ کفارہ کی تین حالتیں ہیں۔ 1۔ قسم سے پہلے (کفارہ دینا)۔ یہ بالاتفاق کفارہ نہیں ہے۔ 2۔ قسم کھانے اور اس کے توڑنے کے بعد (کفارہ دینا)۔ یہ تو بالاتفاق کفارہ ہوتا ہے۔ 3۔ قسم کھانے کے بعد اور قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینا۔ اس میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔ امام شافعی، امام مالک، امام احمد رحمہم اللہ اس کو جائز قرار دیا ہے۔ البتہ امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس اس میں تفصیل ہے۔ وہ یہ فرماتے ہیں کہ قسم توڑنے سے پہلے روزہ کے ذریعہ کفارہ ادا کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ کفارہ میں غلام کو آزاد کرنا، کھانا کھلانا، یا کپڑے دینا قسم توڑنے سے پہلے جائز ہے۔ جیسا کہ سال گزرنے سے پہلے پیشگی زکوٰۃ ادا کرنا جائز ہے لیکن رمضان شریف کے آنے سے پہلے اس کے روزے رکھنا جائز نہیں ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ اور آپ کے اصحاب نے فرمایا کہ قسم توڑنے سے پہلے کسی بھی قسم کا کفارہ نہیں ہوسکتا۔ یہاں تک کہ اگر قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دیدے اور کفارہ دینے کے بعد قسم توڑے تو دوبارہ کفارہ دینا پڑے گا۔ یعنی اس قسم میں جو مستقبل سے متعلق ہے کفارہ کے واجب ہونے کا وقت قسم توڑے جانے کا وقت ہے۔ پس کفارہ ہمارے پاس قسم توڑنے کے بعد ہی واجب ہوتا ہے۔ اور حضرت امام شافعی اور دوسرے ائمہ رحمہم اللہ کے پاس کفارہ کے وجوب کا وقت قسم کے پائے جانے کا وقت ہے۔ اس لئے ان کے پاس قسم کے منعقد ہوتے ہی اس کو توڑے بغیر (بھی) کفارہ واجب ہوجاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ان کے پاس قسم کفارہ کا سبب ہے اور قسم توڑنا اس کے لئے شرط ہے، اس لئے سبب پائے جانے کے بعد کفارہ ادا کرنا درست ہے کیونکہ کفارہ کی نسبت قسم کی طرف کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”ذٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ“۔ (5۔ المائدہ، آیت نمبر:89)(یہ تمہارے قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھاؤ) اور یہ آیت سبب ہے کیونکہ درحقیقت واجبات کی نسبت ان کے اسباب کی طرف کی جاتی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے پر كفارة القتل، كفارة الظهار، كفارة الافطار۔ (یعنی کفارہ واجب ہے اور اس کے اسباب قتل، ظہار افطار یعنی روزہ توڑنا وغیرہ ہیں)۔ اور ہمارے پاس قسم توڑنا کفارہ کے وجوب کا سبب ہے۔ اور قسم شرط ہے کیونکہ قسم اس کو پورا کرنے کے ارادہ سے ہوتی ہے۔ اور اس چیز کو پورا کرنے کی غرض سے جس پر قسم کھا رہا ہے۔ اور۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔اپنی قسم میں سچائی کو ظاہر کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ اور اس کا شرعاً حکم دیا گیا ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بناء پر ہے کہ فرمایا: ”وَاحْفَظُوْا أَيْمَانَكُمْ“ (5۔المائدۃ، آیت نمبر:89)(اپنے قسموں کی حفاظت کرو)۔ اس لئے قسم کفارہ کے لئے سبب نہیں بنتی کیونکہ سبب کا کم سے کم مرتبہ یہ ہے کہ وہ مفضی الى الحکم (کسی چیز کے حکم کا باعث یا اس تک لے جانے والی ہوتی ہے) اور اس کے لئے ذریعہ ہو۔ اور قسم یہاں اس کے لئے مانع ہے تو وہ سبب کیسے بنے گی۔ لہذا اتم مفضى الى الکفارة (کفارہ کا باعث) نہیں ہوگی بلکہ کفارہ کا باعث قسم توڑنا ہے جبکہ وہ قسم کے بعد پایا جائے تو قسم کو توڑنا سبب ہوگا اور قسم اس کے واجب ہونے کے لئے شرط ہوگی پس قسم توڑنے سے پہلے پیشگی کفارہ ادا کرنا جائز نہیں ہوگا کیونکہ اس سے سبب کا مقدم ہونا لازم آئے گا۔ آیت کریمہ میں جو اضافت مذکور ہے وہ شرط کی طرف ہے اور شرط کی طرف اضافت شرعی احکام میں جائز اور ثابت ہے جیسے احرام اور صدقۂ فطر کے کفارہ میں ہے۔ یہاں بالفرض قسم کا سبب ہونا تسلیم کر لیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ قسم کا توڑنا وجوب کی شرط ہے کیونکہ یہ بات قطعی ہے کہ کفارہ اس سے پہلے واجب نہیں ہوتا۔ ورنہ محض قسم سے کفارہ واجب ہو جائے گا۔ اور کوئی مشروط اپنی شرط سے پہلے پایا نہیں جاتا تو کفارہ بھی اس سے پہلے واجب نہیں ہوگا اور وجوب اپنے ثبوت سے پہلے یا ثبوت کے بعد کسی ایسے فعل سے جو واجب ہونے سے پہلے کیا گیا ہے ساقط نہیں ہوتا۔ اب رہا حدیث شریف تو اس میں متعدد روایتیں ہیں ایک روایت میں ”فلیات الذى هو خیر ولیکفر عن یمینه“ پس چاہئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور جو چیز بہتر ہے اسے اختیار کرے) ہے۔ اور ایک روایت ”فلیات الذى هو خیر ثم لیکفر یمینه“ (جو چیز بہتر ہے اسے اختیار کرے) ہے۔ اور ایک روایت ”فلیات الذى هو خیر ثم لیکفر بِیَمِیْنِهِ“ (جو چیز بہتر ہے اسے اختیار کر کے پھر اپنی قسم کا کفارہ دے) ہے۔ یہ ساری روایتیں ان کے خلاف ہیں جو قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے سے کفارہ ساقط ہونے کے قائل ہیں۔ اور اس میں ان کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ اگر کفارہ محض قسم ہی سے واجب ہوتا تو حضور علیہ والصلوۃ السلام جس چیز پر قسم کھائی جاری اس کا ذکر کئے بغیر ہی یوں ارشاد فرماتے ”من حلف على یمین فلیکفر“ (جو کوئی کسی چیز پر قسم کھائے تو وہ کفارہ دے) مگر اس کے برخلاف یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وہ چیز جس پر قسم کھائی گئی ہے اچھی نہ ہو تو قسم توڑ کر کفارہ دینے کا حکم فرمایا۔ کسی ایسی چیز پر قسم جس کا توڑنا اس کو پورا کرنے سے بہتر ہے اس کو آپ ﷺ نے توڑ کر کفارہ دینے کا خصوصیت سے حکم فرمایا اس لئے کہ کفارہ قسم توڑنے سے ہے نہ کہ محض قسم کھانے سے۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔باقی حاشیہ۔۔۔ لہذا قسم کو توڑنے بغیر محض قسم کھانے سے کفارہ واجب نہیں ہوگا۔ ونیز یہ روایتیں بھی ہمارے لئے حجت ہیں کیونکہ حرف واو کے ساتھ آئی ہیں جو تقدیم و تاخیر کا فائدہ کئے بغیر مطلق جمع کے لئے ہے خواہ کفارہ کا ذکر مقدم ہو یا مؤخر ہو اس میں قسم توڑنے سے پہلے کفارہ کے لئے جواز نہیں ہے۔ اسی طرح بعض روایتیں جن میں ذکر ہے فليات بالذي هو خير ثم ليكفر عن يمينه وہ کام کرلے جو بہتر ہے پھر اپنی قسم کا پہلے کفارہ دے‘‘، البتہ سنن ابوداؤد شریف اور سنن نسائی میں جو الفاظ آئے ہیں وہ یہ ہیں ’’اذا حلفت على يمين فكفر عن يمينك ثم ائت الذي هو خير‘‘ جب تم کسی چیز پر قسم کھاؤ تو اپنی قسم کا کفارہ دو پھر وہ کام کرو جو اس سے بہتر ہے۔ اگر یہ حدیث درجۂ صحت میں ہے تو اس کی تاویل یہ ہے کہ لفظ ’’ثم‘‘ اس حدیث میں واو کے معنی میں ہے اس طرح سے مختلف روایتیں جمع ہوجاتی ہیں۔ لفظ ’’ثم‘‘ کا ’’واو‘‘ کے معنی میں استعمال ہونے کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ فرمایا: ’’أَوْ مِسْكِينًا ذَا مَتْرَبَةٍ . ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا‘‘۔ (یا خاک نشین محتاج کو کھانا کھلاتا اور ان لوگوں میں ہوتا جو ایمان لے آئے (90۔ البلد، آیت نمبر:17/16) اس میں لفظ ’ثم‘ واو کے معنی میں ہے کیونکہ اعمال صالحہ ایمان سے پہلے معتبر نہیں اور اسی لئے قسم توڑنے سے پہلے کفارہ واجب نہیں ہوتا اور اگر ایسا ہی ہوتا جیسا انہوں نے کہا ہے تو پہلے کفارہ واجب ہوجاتا پھر قبل حکم میں اس کے بعد قسم توڑنا ہوتا کیونکہ اس کا حکم اس کے بعد آیا ہے۔ اور اگر پہلے یا بعد کسی طرح کفارہ دینے کا اختیار دیا جائے تو ’’ثُمَّ‘‘ کے معنی پر عمل نہیں ہوگا۔ نیز (ہماری دلیل) یہ بھی ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس اس کی تمام قسموں کا نام کفارہ ہے۔ اس طرح ان کے پاس قسم توڑنے کے بعد کفارہ کو اس کی تمام قسموں پر محمول کیا گیا ہے اور قسم توڑنے سے پہلے یہ لفظ صرف بعض قسموں کے لئے مختص کیا گیا ہے جس کی وجہ سے لفظ کفارہ کے ظاہری معنی تین وجہ سے چھوٹ رہے ہیں۔