اردو
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو (قبیلہ) جہینہ کے لوگوں کے پاس بھیجا تو میں ان میں کے ایک
آدمی کے پاس آیا اور اس کو نیزہ سے مارنے لگا، اس نے ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ کہا؛ لیکن میں نے اس
کے باوجود نیزہ مار کر اس کو قتل کر دیا۔ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور
آپﷺ کو اس کی خبر دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم نے اس کو مار ڈالا جب کہ
وہ ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ کی گواہی دے چکا (تھا) تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! اس نے تو ایسا
صرف پناہ (بچنے) کی خاطر کیا۔ آپﷺ نے فرمایا: تو تم نے اس کے دل کو کیوں نہیں چیرا (یعنی
کیا تم اس کے دل کی حالت کو جانتے تھے؟)۔9 (متفق علیہ)
حضرت جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تو کیا کرے گا جب قیامت کے دن کلمہ ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“
آئے گا۔ آپﷺ نے اس کو کئی مرتبہ فرمایا۔ (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 96a (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4269 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 97 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “Why did you not split open his heart”: This indicates the well-known rule in jurisprudence and legal theory that rulings are based on apparent matters. So it is in (Al-Mirqat).
Note 2
(٢) قوله: فهلا شققت عن قلبه: فيه دليل للقاعدة المعروفة في الفقه والأصول أن الأحكام يحكم فيها بالظواهر. كذافي (المرقاة).