اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 5452
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے اہل جاہلیت بعض چیزوں کو
کھاتے تھے اور بعض چیزوں کو نفرت کرتے ہوئے چھوڑ دیتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو
مبعوث فرمایا اور اپنی کتاب نازل فرمائی اور اپنے حلال کو حلال رکھا اور اپنے حرام کو حرام رکھا چنانچہ
جس چیز کو اس نے حلال فرمایا وہ حلال ہے اور جس چیز کو حرام فرمایا وہ حرام ہے اور جس چیز کے بارے
میں سکوت اختیار فرمایا تو وہ معاف ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔ 1
(6ـ سورۃ الانعام، آیت نمبر:145)
”آپ فرما دیجئے جو کچھ (احکام) میرے پاس وحی کے ذریعے آئے ہیں ان میں سے کسی
کھانے والے کے لئے میں کوئی چیز حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مردار جانور ہو“۔ (ابوداؤد)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 3800 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
(2) The statement: Say, I do not find within that which was revealed to me, etc.: This indicates that prohibition is known through revelation, not whims. Thus, in “Al-Mirqat.”
Note 2
(٢) قوله: قل لا أجد فيما أوحي إلي إلخ: وفيه تنبيه على أن التحريم إنما يعلم بالوحي لا بالهوى. كذا في (المرقاة).