Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

Hadith 406

(وضوء کے فرائض سنتوں اور مستحبات کا بیان)

In this book

Current reading

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

(وضوء کے فرائض سنتوں اور مستحبات کا بیان)

Zujajat al-Masabih 406Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 447Noor 448
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ تلوار گلے میں لٹکا کر نکلے تو ان سے بنی زہرہ کا ایک آدمی ملا، اس نے پوچھا: اے عمر (رضی اللہ عنہ) کہاں کا ارادہ ہے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے قتل کا ارادہ رکھتا ہوں، اس شخص نے کہا: تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قتل کرنے کے بعد بنی ہاشم اور بنی زہرہ سے کیسے بچ سکو گے؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: معلوم ہوتا ہے کہ تو نے بھی نیا دین اختیار کر لیا ہے (یعنی مسلمان ہوگیا ہے) تو اس شخص نے آپ سے کہا: اس سے زیادہ عجیب بات سنو تمہارے بہنوئی اور تمہاری بہن دونوں نے نیا مذہب اختیار کر لیا ہے اور تمہارا دین چھوڑ دیا ہے، عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر چلے اور بہن، بہنوئی کے پاس آئے، اس وقت ان کے پاس حضرت خباب رضی اللہ عنہ موجود تھے، جب خباب رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کی آہٹ سنی کمرہ میں چھپ گئے اور عمر رضی اللہ عنہ گھر میں داخل ہوگئے اور پوچھے یہ دھیمی آواز کیا تھی؟ اس وقت وہ دونوں ”سورہ طٰہٰ“ پڑھ رہے تھے، دونوں نے کہا: ہم آپس میں گفتگو کر رہے تھے، اس کے سوائے کوئی اور بات نہ تھی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: شاید تم دونوں نے نیا دین اختیار کر لیا ہے تو ان سے بہنوئی نے کہا: اے عمر (رضی اللہ عنہ)! جب حق تمہارے دین کے سوا دوسرے دین میں ہے تو کیا پھر بھی اس کو اختیار نہ کیا جائے گا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کیا اور ان کو خوب روندا، بہن درمیان میں آگئیں تاکہ اپنے شوہر کو مار سے بچائیں تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو زور سے تھپڑ مارا اور ان کا چہرہ خون آلود کر دیا، بہن نے غضبناک حالت میں کہا: جب حق تمہارے دین کے سوا دوسرے دین میں ہے اور میں اسی لئے گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ کتاب لاؤ جو تمہارے پاس ہے کہ میں اس کو پڑھ کر دیکھوں اور عمر رضی اللہ عنہ پڑھنا جانتے تھے، اس پر ان کی بہن نے کہا: تم ناپاک ہو، اس کتاب کو غسل اور وضوء کے ساتھ ہی چھو سکتے ہیں، تو اٹھو اور غسل کرو، یا وضوء ہی کرلو تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور وضوء کیا پھر کتاب لی اور سورہ طٰہٰ پڑھی (آخر حدیث تک پڑھ لیا جائے استنباط مسئلہ کے لئے یہاں تک کافی ہے)۔ (اس کی روایت ابن سعد، ابویعلی حاکم اور بیہقی نے دلائل میں کی ہے۔) اور دوسری حدیث جس کی تخریج ابونعیم نے دلائل میں اور ابن عساکر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کی ہے، اس طرح مروی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اٹھا اور غسل کیا اس کے بعد ان دونوں نے کتاب نکالی، (یہ تمام روایتیں امام علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی تاریخ الخلفاء میں

Qur’an-related source paragraphs

Allah the Almighty says:

Commentary and footnotes (7)

Note 1

Al-Haymanah (murmur)

(1) His statement, “Al-Haymanah (murmur)” refers to a soft voice.

Note 2

He struck her with his hand

(2) His statement, “He struck her with his hand” means that he hit her with a blow from his hand. This is mentioned in the footnotes of Tareekh al-Khulafa.

Note 3

He performed ghusl (ritual bath) or wudu (ablution)...

(3) His statement, “He performed ghusl (ritual bath) or wudu (ablution)...” In Al-Tawdeeh al-Hasan 'ala Ihya al-Sunan, it is stated: Regarding the first narration, we say: The intention of a non-believer is not valid, so the validity of wudu for touching the Qur'an in the mentioned story is proven without the condition of intention. This is our school of thought. Thus, Umar’s wudu in that situation was valid according to our view. However, according to the view of those who consider intention a condition for the validity of wudu, it would not be valid, which is clearly invalid as you see. Hence, the condition of intention is not established by Shari’ah. A narration attributed to a Companion in such matters is treated as though it is attributed directly to the Prophet (peace be upon him), as it concerns something that cannot be known through personal opinion. As for the second narration, we say: That ghusl (ritual bath) would not have been performed without wudu, as performing ghusl alone without wudu is not sufficient for touching the Qur'an. Therefore, the validity of wudu without intention is also proven in this way. The author of Al-Hidayah said: "Intention in wudu is Sunnah according to us, while according to Al-Shafi’i, it is obligatory because wudu is an act of worship and cannot be valid without intention, just like tayammum (dry ablution)." Our argument is that wudu does not become an act of worship unless accompanied by intention. However, it serves as a prerequisite for prayer because it is considered a purification through the use of a purifying agent. This is unlike tayammum, as soil is not inherently a purifier except in cases of intending to pray, where it indicates a purposeful intent. And Allah knows best. This concludes the explanation.

Note 1

قوله

(۱) قوله: الهيمنة: آواز نرم.

Note 2

قوله

(۲) قوله : فنفحها نفحة بيده أي ضربها ضربة بيده. كذا في حاشية تاريخ الخلفاء».

Note 3

قوله

(٣) قوله: فاغتسل أو توضأ إلخ : وقال في التوضيح الحسن» على إحياء السنن: أما وجه الاستدلال على الرواية الأولى، فنقول: إن نية الكافر لا تعتبر ، فلا يقال بصحة الوضوء لمس القرآن في القصة المذكورة إلا بعدم اشتراط النية، وهو مذهبنا، فصح وضوء عمر في تلك الحالة على مذهبنا، ويلزم على مذهب من اشترط النية لصحة الوضوء عدم صحته، وهو باطل كما ترى، فلم يثبت اشتراط النية شرعًا، والحديث الموقوف في مثل هذا المقام في حكم الحديث المرفوع؛ لأنه مما لا يدرك بالرأي. وأما على الرواية الأخرى فنقول: إن ذلك الغسل ما خلا عن الوضوء؛ فإن نفس الغسل بغير الوضوء لا يكفي لمس القرآن، فصح الوضوء بغير النية بهذا الوجه أيضًا. وقال صاحب الهداية»: فالنية في الوضوء سنة عندنا، وعند الشافعي فرض؛ لأنه عبادة، فلا يصح بدون النية كالتيمم. ولنا أنه لا يقع قربة إلا بالنية، ولكنه يقع مفتاحا للصلاة؛ لوقوعه طهارة باستعمال المطهر، بخلاف التيمم؛ لأن التراب غير مطهر إلا في حال إرادة الصلاة، أو هو ينبئ عن القصد. انتهى.

Note 1

موجود ہیں اور دارقطنی نے اس کی اسی طرح روایت کی ہے اور نصب الرایہ نے اس حدیث کی سند کو جید کہا ہے۔ اور اس واقعہ سے متعلقہ - دونوں حدیثوں کی سند کے بارے میں کہا ہے کہ دونوں سندیں جید ہیں اور دونوں حدیثوں کو بیان کیا ہے۔) ف: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن ہاتھ میں لینا چاہا تو آپ کی بہن نے فرمایا: اگر قرآن ہاتھ میں لینا چاہتے ہو تو غسل کر لو یا وضو کر لو، اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ وضو نیت کے بغیر صحیح ہے اور یہی حنفی مذہب ہے) جس کی توضیح احیاء السنن کے حاشیہ التوضیح الحسن میں حسب ذیل طریقہ پر کی گئی ہے۔ اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ کافر کی نیت معتبر نہیں تو اس واقعہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وضو کرنا بغیر نیت ہی کے تھا کیونکہ آپ نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا اور اسی لئے ہمارے مذہب حنفی کے لحاظ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وضو کرنا درست ہے اگرچہ وہ بغیر نیت کے ہوا ہے لیکن جن حضرات کے پاس نیت کے بغیر وضو درست نہیں تو وہ حضرات عمر رضی اللہ عنہ کے وضو کو جو بغیر نیت کے ہوا ہے کس طرح صحیح ثابت کر سکتے ہیں، حالانکہ آپ کا وضو صحیح تھا جب ہی تو آپ کی بہن نے آپ کو قرآن دیا، اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ نیت وضوء میں شرط نہیں، اب رہا یہ کہ یہ حدیث موقوف ہے تو اس حدیث کا موقوف ہونا ہم کو مضر نہیں کیوں کہ ایسے مقامات میں حدیث موقوف کا حکم حدیث مرفوع کے مثل ہے، اس لئے ایسے احکام قیاس سے ثابت نہیں ہوتے ہیں۔ دوسری روایت میں جس کی تخریج ابو نعیم نے دلائل میں کی ہے، جس کے الفاظ ہیں ﴿فَقُمْتُ فَاغْتَسَلْتُ فَأَخْرَجُوا إِلَيَّ صَحِيفَةً﴾ (یعنی میں اٹھا اور غسل کیا اور کہا کہ اس کتاب کو مجھے دے دو) اس میں وضوء کا ذکر نہیں ہے، اس بارے میں ہمارا قول یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس غسل میں وضوء ضمناً خود بخود شامل ہے کیوں کہ غسل میں اعضائے وضوء کے دھوئے بغیر خود غسل کامل نہیں ہو سکتا اور یہ وضوء جو ضمناً ثابت ہوا ہے وہ بغیر نیت ہی کے تھا اور ایسے وضوء سے قرآن کو ہاتھ لگانا اور دوسرے عبادات مقصودہ جیسے نماز وغیرہ کا ذریعہ بننا صحیح سمجھا جائے گا مگر خود ایسا وضوء عبادت نہ ہوگا، اس لئے صاحب ہدایہ نے مذہب حنفی کے لحاظ سے وضوء کو عبادت بنانے کے لئے نیت کو وضوء کی سنت قرار دی ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس نیت وضوء میں فرض ہے کیونکہ وضوء ان کے پاس نماز کی طرح عبادت مقصودہ ہے اور عبادت مقصودہ بغیر نیت کے درست نہیں تو جس طرح تیمّم میں نیت فرض ہے اسی طرح ان کے پاس وضوء میں بھی نیت فرض ہے۔ ہمارے احناف کے پاس وضوء اور تیمّم میں نیت کے اعتبار سے فرق کرنے کی دلیل یہ ہے کہ وضوء عبادت مقصودہ نہیں بلکہ قربت الٰہی کا ذریعہ ہے اور خود عبادت غیر مقصودہ ہے اس وجہ سے وضوء کو عبادت مقصودہ کا ذریعہ بننے کے لئے نیت کی ضرورت نہیں، ہاں عبادت بننے کے لئے نیت کی ضرورت ہے، اور نماز ایسے وضوء سے جو بغیر نیت کے ہوا اس وجہ سے جائز ہے کہ وضوء پانی سے کیا جاتا ہے اور پانی فی نفسہ پاک کرنے والا ہے، بخلاف تیمّم کے کہ وہ مٹی سے کیا جاتا ہے اور مٹی بنفسہ پاک کرنے والی نہیں ہے بلکہ طہارت کی نیت سے وہ پاک کرنے والی بنتی ہے اور اسی لئے تیمّم میں ہمارے پاس بھی نیت فرض ہے اور بغیر نیت کے تیمّم درست ہی نہیں ہوتا۔ تو پانی کو مٹی پر قیاس کر کے نیت کو جس طرح تیمّم میں فرض ہے ایسا ہی وضوء کے لئے بھی فرض کرنا قیاس مع الفارق ہے، واضح رہے کہ تیمّم میں نیت اس لئے بھی فرض ہے کہ خود تیمّم کے معنوں میں قصد اور نیت داخل ہے، اس لئے یہ نیت کے بغیر صحیح نہیں ہوسکتا۔