Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

Hadith 468

(وضوء کے فرائض سنتوں اور مستحبات کا بیان)

In this book

Current reading

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

(وضوء کے فرائض سنتوں اور مستحبات کا بیان)

Zujajat al-Masabih 468Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 516Noor 517Noor 518
حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ان کے والد علی رضی اللہ عنہ نے وضوء کرنے کے لئے پانی طلب کیا تو پانی پیش کیا گیا، تو آپ نے تین مرتبہ دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک پانی میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی لیا، پھر تین مرتبہ چہرے کو دھویا، پھر سیدھے ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، اسی طرح بائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر سر کا صرف ایک دفعہ مسح کیا، پھر سیدھے پیر کو تین دفعہ ٹخنوں سمیت دھویا، پھر اسی طرح بائیں پیر کو بھی تین مرتبہ دھویا پھر کھڑے ہوگئے۔ اور مجھ سے فرمایا کہ برتن دے دو تو میں نے برتن دے دیا جس میں وضوء کا بقیہ پانی تھا تو آپ نے کھڑے ہو کر اس پانی کو پی لیا، اس پر میں نے تعجب کیا، جب میرے تعجب کو دیکھا تو فرمایا کہ تعجب مت کرو، میں نے تمہارے ابا جان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھ کو دیکھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضوء فرماتے تھے اور وضوء سے بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پی لیتے۔ (اس کی روایت نسائی، طحاوی اور ابن جریر نے کی ہے اور ابن جریر نے اس کو صحیح بتلایا ہے اور ابن ابی شیبہ نے بھی اس کی روایت کی ہے۔) ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ان کی مسند میں علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضوء فرمایا تو دونوں ہاتھوں کو پہونچوں تک تین مرتبہ دھویا اور تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک کو پانی سے صاف فرمایا اور تین مرتبہ چہرے کو دھویا اور دونوں ہاتھوں کو (کہنیوں سمیت) تین مرتبہ دھویا اور سر کا مسح کیا اور دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا اور فرمایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضوء ہے۔ اور ایک دوسری روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے وضوء کے لئے پانی طلب فرمایا اور دونوں ہاتھوں کو پہونچوں تک تین مرتبہ دھویا، تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ پانی سے ناک صاف فرمایا اور تین مرتبہ چہرے کو دھویا اور دونوں ہاتھوں کو تین تین مرتبہ کہنیوں سمیت دھویا اور تین مرتبہ سر کا مسح کیا اور تین مرتبہ پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا پھر فرمایا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضوء ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 95 (unverified) 80% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

عبداللہ بن محمد بن یعقوب رحمہ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ جس شخص نے تین مرتبہ سر کے مسح کرنے کی روایت کی ہے اس کی مراد یہ ہے کہ تین مرتبہ سر کا مسح اس طرح کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنا دست مبارک تالو پر رکھا اور پھر دونوں ہاتھوں کو سر کے پچھلے حصہ تک لے گئے پھر وہاں سے ہاتھوں کو سر کے اگلے حصہ تک واپس لائے اور اسی کو تین مرتبہ مسح قرار دیا حالانکہ وہ (پورے سر پر) ایک ہی مرتبہ تھا اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو سر سے الگ نہیں کیا اور نہ تین مرتبہ آپ نے پانی لیا، یہ ایسا ہے جیسے کوئی پانی ہاتھ میں لے پھر اس کو بہو بچوں کے کنارے تک کھینچ لے جائے، چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے جارود بن زید، خارجہ بن مصعب اور اسد بن عمر رضی اللہ عنہم سے جو روایت کی ہے اس میں صرف ایک مرتبہ مسح کرنے کا ذکر ہے تو جب خود امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ مسح کرنے کی روایت کی ہے تو اسی صورت میں تین مرتبہ مسح کرنے کا مفہوم وہی ہوگا جس کو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔