اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6688
سیدنا عبداللہ بن شداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا:
کہ بنو عذرہ کے تین آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوئے، حضرت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری طرف سے کون اُن کی ذمہ داری قبول کرے گا طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نے عرض کیا: ”میں“، پس وہ لوگ انہی کے پاس رہے، نبی اکرم ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا تو ان میں
سے ایک صاحب اس میں چلے اور شہید ہوگئے، پھر آپ ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا تو اس میں
دوسرے صاحب چلے اور شہید ہوگئے پھر تیسرے صاحب اپنے بستر پر وفات پائے، راوی کہتے ہیں
حضرت طلحہ نے فرمایا: میں نے ان تینوں کو جنت میں دیکھا اور بستر پر انتقال کرنے والے صاحب کو
ان سب کے سامنے دیکھا، بعد میں شہید ہونے والے صاحب کو ان کے قریب اور ان میں کے پہلے
صاحب کو ان کے قریب دیکھا تو میرے دل میں اُس سے متعلق کچھ خیال آیا تو میں نے اس کو نبی
پاک ﷺ کی خدمت میں ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: تم نے اس میں سے کس چیز پر تعجب کیا اللہ تعالیٰ
کے پاس کوئی شخص اس مومن سے زیادہ فضیلت والا نہیں جس کو اسلام میں اُس کی تسبیح تکبیر اور تہلیل کی
وجہ سے بڑی عمر دی جائے۔ (احمد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 5286 (unverified) 35% confidence
- Candidate: Musnad Ahmad 1401 (unverified) 25% confidence
Mishkat (candidate) 5286
Confidence and text similarity are not editorial verification.