اردو
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
میری ملاقات ہوگئی اور میں اس وقت جنبی تھا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ کے ساتھ ہو لیا
یہاں تک کہ ایک مقام پر بیٹھ گئے تو میں چپکے سے نکل گیا اور اپنے مقام پر پہنچا اور غسل کر کے پھر آپ
کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، ارشاد فرمایا: اے ابو ہریرہ رضی اللہ
عنہ تم کہاں تھے؟ تو میں نے آپ سے اپنے غسل کرنے کا حال بیان کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
تعجب سے سبحان اللہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومن تو ناپاک ہوتا ہی نہیں (یہ الفاظ بخاری کے
ہیں اور مسلم نے بھی اسی طرح معناً روایت کی ہے۔ البتہ مسلم میں یہ زائد ہے کہ آپ سے میری
ملاقات ایسی حالت میں ہوئی تھی کہ میں جنبی تھا تو مجھے اچھا معلوم نہیں ہوا کہ آپ کے پاس بلا غسل
بیٹھوں۔
(اور بخاری کی دوسری روایت بھی اسی طرح کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 283 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 371a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ارشاد ہے کہ مومن ناپاک نہیں ہوتا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جنابت نجاست حکمی ہے جس کا حکم شارع علیہ السلام نے دیا ہے اور غسل اس پر واجب کیا ہے، اس لئے جنابت کی وجہ سے حقیقتاً مسلمان اور مومن نجس نہیں ہو جاتا اور اسی لئے جنبی کا پسینہ اور جھوٹا، اور اس سے مصافحہ اور اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا وغیرہ جائز ہے۔ (لمعات)۔