اردو
انہی سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم!
حضرت ابن مریم ضرور ضرور حاکم اور عادل بن کر اتریں گے، پھر وہ ضرور صلیب کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے،
جزیہ کو ختم کریں گے اور جوان اونٹنیوں کو چھوڑ دیں گے 1 تو ان سے کام لینے کی کوشش نہیں کی جائے گی اور کینہ،
آپسی بغض اور باہمی حسد جاتا رہے گا 2 اور وہ مال کی طرف بلائیں گے تو اس کو کوئی قبول نہیں کرے گا۔
اور بخاری و مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:
تمہارا اس وقت خوشی میں کیا حال ہوگا جب تم میں حضرت ابن مریم اتر کر آئیں گے اور تمہارے
امام تم میں سے ہوں گے 3۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 155c (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) His statement: “leave the young camels, so no one will collect them”: Al-Mazhar said this means Jesus will leave the camels of charity, and no one will be ordered to collect or take them, as no one will accept them due to people’s self-sufficiency. (As stated in Al-Mirqat) (2) His statement: “Enmity, hatred, and envy will vanish”: These are all results of love for the world, and they will disappear when love for the world leaves hearts. (As stated in Al-Mirqat) (3) His statement: “your leader is from among you”: Meaning, from your religion, referring to the Mahdi. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: وليتركن القلاص فلا يسمع يسعى عليها: قال المظهر يعني ليتركن عيسى إبل الصدقة، ولا يأمر أحدا أن يسعى عليها أو يأخذها؛ لأنه لا يجد من يقبلها؛ لاستغناء الناس عنها. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله : ولتذهب الشحناء إلخ وكلها نتيجة حب الدنيا، فتزول كل هذه العيوب بزوال محبة الدنيا عن القلوب. كذا في «المرقاة».
Note 3
(۳) قوله : وإمامكم منكم: أي من أهل دينكم، وهو المهدي. كذا في «المرقاة».