Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Trials

Hadith 5343

بَابُ الْحِسَابِ وَالْقِصَاصِ وَالْمِيزَانِ ختم ہوا

In this book

Current reading

Trials

بَابُ الْحِسَابِ وَالْقِصَاصِ وَالْمِيزَانِ ختم ہوا

Zujajat al-Masabih 5343Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6973
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن 1؎ اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے کے بارے میں شک کرتے ہو جو بادل میں نہیں ہو؟ تو انہوں نے کہا: نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم چودھویں کے چاند کو دیکھنے کے بارے میں شک و شبہ کرتے ہو جو بادل میں نہیں ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! تم اپنے رب کے دیدار کے بارے میں شبہ نہیں 2؎ کرتے ہو گے جیسا کہ تم ان دونوں میں سے کسی ایک کے دیکھنے کے بارے میں شک کرتے ہو، آپ نے فرمایا: چنانچہ وہ بندے سے ملاقات فرمائے گا اور کہے گا: اے فلاں! کیا میں تجھ پر کرم نہیں کیا؟ کیا میں تجھ کو سرداری عطا نہیں کی؟ اور کیا میں نے تیری شادی نہیں کروائی؟ کیا میں نے تیرے لئے گھوڑوں اور اونٹوں کو تابع نہیں کیا؟ اور کیا میں نے تجھے اس حالت میں نہ چھوڑا کہ تو سرداری کرتا ہے اور دولت حاصل کرتا ہے؟ تو وہ عرض کرے گا: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا پس وہ فرمائے گا کیا تو نے یہ سمجھا تھا کہ تو مجھ سے ملنے والا ہے؟ تو وہ کہے گا: نہیں تو وہ فرمائے گا بے شک میں تجھ کو بھولا ہوا چھوڑ دیتا ہوں جیسا کہ تو مجھے بھول گیا تھا پھر وہ دوسری مرتبہ ملاقات کرے گا پس وہ اسی طرح ذکر کرے گا، پھر وہ تیسری مرتبہ ملاقات کرے گا پس وہ اس سے ایسا ہی کہے گا تو وہ کہے گا: اے میرے رب! میں تجھ پر اور تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا اور میں نماز پڑھا روزہ رکھا اور صدقہ خیرات کیا اور وہ جتنا ہوسکے وہ اپنی تعریف کرے گا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا تب تو تو یہیں ٹھہر کہا جائے گا! اب ہم تیرے خلاف ایک گواہ کو اٹھائیں گے تو وہ اپنے آپ میں غور و فکر کرے گا کون ہے وہ جو میرے خلاف گواہی دے گا تو اسکے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اسکی ران سے کہا جائے گا تو بول اسکی ران اور اسکا گوشت اور اسکے ہڈیاں اس کے عمل کے بارے میں بولیں گے اور وہ اسلئے ہے تاکہ اس کے عذر کو ختم کر دیا جائے اور وہ منافق ہوگا اور یہ وہ ہوگا جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2968 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

On the Day of Resurrection

(1) His statement: “On the Day of Resurrection”: This is specified because there is consensus that Allah, the Exalted, is not seen in this world, as the eternal essence is not seen with a perishable eye. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

You will not find difficulty, etc.

(2) His statement: “You will not find difficulty, etc.”: Al-Tayyibi said: The apparent wording would be: “You will not find difficulty in seeing your Lord as you do not find difficulty in seeing either of them,” but it was expressed as in the verse: “And there is no fault in them except that their swords have nicks from striking battalions.” Meaning, you will not doubt seeing Him as you do not doubt seeing the sun or moon, and since there is no doubt in seeing them, you will not doubt seeing Him at all. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: يوم القيامة: قيد به للإجماع على أنه تعالى لا يرى في الدنيا؛ لأن الذات الباقية لا ترى بالعين الفانية. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله : لا تضارون إلخ : قال الطيبي الله : قوله : «إلا كما تضارون، كان الظاهر أن يقال: لا تضارون في رؤية ربكم كما لا تضارون في رؤية أحدهما، ولكنه أخرج مخرج قوله: ولا عيب فيهم غير أن سيوفهم بهن فلول من قراع الكتائب أي لا تشكون فيه إلا كما تشكون في رؤية القمرين، وليس في رؤيتهما شك، فلا تشكون فيها البتة. كذا في «المرقاة».