اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7182
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک نماز پڑھائی اور طویل نماز پڑھائی۔ صحابہ نے عرض کیا یا
رسول اللہ آپ نے ایسی نماز پڑھائی جو آپ ویسی نہیں پڑھاتے تھے تو فرمایا: ہاں یہ شوق و خوف کی نماز
تھی(25)، اور میں نے اس میں اللہ سے تین چیزوں کا سوال کیا تھا تو اس نے مجھے دو چیزیں عطا فرمائی
اور ایک چیز سے روک دیا۔ میں نے اس سے سوال کیا تھا میری امت کو خشک سالی اور قحط سالی سے
ہلاک نہ کرے تو مجھے یہ عطا فرمایا، اور میں نے سوال کیا تھا کہ ان پر ان کے غیر سے کوئی دشمن مسلط نہ
کرے تو اس نے مجھے یہ بھی عطا فرمایا، اور میں اس سے سوال کیا تھا کہ ان کو آپس میں ایک دوسرے
سے جنگ کا مزہ نہ چکھائے تو اس نے مجھے اس سے روک دیا۔ (ترمذی، نسائی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 2175 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 1637 (unverified) 85% confidence · Validation similarity: 0.469
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “It was a prayer of hope and fear”: This means the prayer combined the intention of hoping for reward and fearing punishment, unlike other prayers where one of these motives may predominate. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: إنها صلاة رغبة ورهبة المراد به أن هذه صلاة جامعة بين قصد رجاء الثواب وخوف العقاب، بخلاف سائر الصلوات؛ إذ قد يغلب فيها أحدا الباعثين على أدائها. كذا في «المرقاة».
Note 1
(25) قوله: انها صلوة رغبة ورهبة . مطلب یہ ہے کہ ایک جامع نماز تھی اس میں ثواب کی امید اور عقاب کا خوف دونوں برابر شامل تھے، برخلاف دوسری نمازوں کے، ان کی ادائی میں ان دو چیزوں (ثواب و عقاب) میں سے کسی ایک چیز کا غلبہ رہتا ہے۔ (مرقات)۔