اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7201
حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ تورات میں سے بیان
کرتے ہیں فرمایا: ہم لکھا ہوا پاتے ہیں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میرے بندے ہیں مختار ہیں، سخت
زبان نہیں ہیں، اور سخت دل نہیں ہیں اور بازاروں میں شور کرنے والے نہیں ہیں، برائی کا بدلہ برائی
سے نہیں دیتے اور لیکن معاف کر دیتے ہیں، اور بخش دیتے ہیں آپ کا مقام پیدائش مکہ ہے اور آپ کی
ہجرت طیبہ میں ہے، اور آپ کی حکومت ملک شام میں بھی ہے اور آپ کی امت حمّادون ہے جو
راحت و تنگی ہر حالت میں اللہ کی تعریف کریں گے، اور ہر درجہ میں اللہ کی تعریف کریں گے اور ہر
بلندی پر اللہ کی تکبیر کریں گے۔ وہ سورج کے اوقات کی رعایت کرنے والے ہیں جب نماز کا وقت
آ جائے تو نماز پڑھیں گے(46)، اور اپنی کمر پر تہبند باندھیں گے اور اپنے ہاتھ پاؤں کو دھو کر وضو کریں
گے اور بلند فضا میں ان کے مؤذن اذان دیں گے ان کی صفیں جنگ میں اور نمازوں میں برابر ہوں
گی، اور راتوں میں شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح ان کی گنگناہٹ ہوگی۔ یہ مصابیح کے لفظ ہیں،
امام دارمی نے تھوڑی تبدیلی کے ساتھ اس کی روایت کی ہے۔ (مصابیح، دارمی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 5767 (unverified) 40% confidence
- Candidate: Sunan al-Darimi 6 (unverified) 35% confidence
Mishkat (candidate) 5767
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “praying the prayer when its time arrives”: Its apparent meaning aligns with what Al-Shafi’i said: It is recommended to hasten every prayer. The evidence against this is what we narrated about the recommendation to delay some prayers. Its meaning, as stated in Al-Mirqat, is that they observe the sun’s movement to know the prayer times so as not to miss them.
Note 1
(۱) قوله : يصلون الصلاة إذا جاء وقتها بظاهر معناه ما قال الشافعي : يستحب التعجيل في كل صلاة، والحجة عليه ما رويناه في استحباب تأخير بعض الصلوات. فمعناه ما قال في المرقاة»: قوله: يصلون الصلاة إذا جاء وقتها استئناف تعليل لما سبق، أي يراقبون ذلك وينظرون سيرها ليعرفوا مواقيت الصلاة؛ كيلا يفوت عنهم الصلاة في وقتها، فتأمل.
Note 1
(46) قوله: يصلون الصلوة اذا جاء وقتها. بظاہر اس کے معنی جیسا کہ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہر نماز کو اول وقت پڑھنا مستحب ہے مگر بعض نمازوں کو تاخیر سے پڑھنا مستحب ہونے کی ہماری جو روایات ہے وہ مطلق تعجیل کے خلاف ان پر حجت ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب وہ ہے جو صاحب مرقات نے کہا ہے يصلون الصلوة اذا جاء وقتها جب نماز کا وقت آ جائے گا وہ نماز پڑھیں گے۔ یہ نیا جملہ ہے مضمون سابق کی علت ہے یعنی اوقات کا خیال رکھیں گے، اور سورج کی رفتار کو دیکھتے رہیں گے اس سے نماز کے اوقات کو معلوم کریں گے تا کہ کوئی نماز وقت میں چھوٹنے نہ پائے۔ (تم اس کو غور کرو)